ناظم آباد میں زچگی کے بعد نومولود کے مبینہ طور پر لاپتا ہونے کے سنسنی خیز معاملے نے نیا رخ اختیار کر لیا، جہاں نجی اسپتال کی انتظامیہ نے پولیس کو بتایا ہے کہ متاثرہ خاتون ان کے پاس حاملہ حالت میں نہیں آئی تھی۔
پولیس حکام کے مطابق متاثرہ خاتون کا سروسز اسپتال میں میڈیکل ٹیسٹ اور ایکس رے کیا جا رہا ہے، جبکہ بعض نمونے مزید جانچ کے لیے ایک تیسرے نجی اسپتال بھی بھیجے گئے ہیں۔ رپورٹس موصول ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ خاتون حالیہ عرصے میں حاملہ تھی یا نہیں۔
پولیس کی جانب سے نجی اسپتال کی انتظامیہ اور عملے سے تفتیش جاری ہے، جبکہ میڈیکل ٹیم نے متاثرہ خاندان سے حمل، علاج اور الٹراساؤنڈ سمیت تمام متعلقہ ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔
نجی اسپتال کی انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ جس نام سے مریضہ کا کارڈ بنایا گیا، وہ خاتون آپریشن کے لیے اسپتال نہیں آئی۔ انتظامیہ کے مطابق اگر عملے کی غفلت ثابت ہوئی تو کارروائی کی جائے گی، تاہم ان کے بقول جس خاتون کا علاج کیا گیا وہ حاملہ نہیں تھی۔
دوسری جانب متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ خاتون کا نو ماہ تک اسی اسپتال میں باقاعدگی سے چیک اپ، الٹراساؤنڈ اور دیگر ٹیسٹ ہوتے رہے۔ خاندان کے مطابق ڈاکٹرز نے 27 اگست کو ڈلیوری کی تاریخ دی تھی، لیکن آپریشن کے بعد انہیں بتایا گیا کہ بچے کی پیدائش ہی نہیں ہوئی، جس پر انہوں نے اسپتال کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے پولیس میں شکایت درج کرا دی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حتمی میڈیکل رپورٹس آنے کے بعد ہی کیس کی حقیقت واضح ہو سکے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








