بھارت کی ریاست تمل ناڈو حکومت نے اقلیتی برادری، خصوصاً مسلم خواتین کی تعلیم اور فلاح کے لیے کئی اہم اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے سرکاری کوٹے کے تحت اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلہ لینے والی اہل مسلم طالبات کی مکمل انڈرگریجویٹ ٹیوشن فیس ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ اعلان تمل ناڈو اسمبلی میں اقلیتی بہبود کے وزیر اے۔ ایم۔ شاہجہاں نے 28 اگست کو اقلیتی بہبود کے محکمے کے مطالباتِ زر پر بحث کے دوران کیا۔
وزیر کے مطابق نئی اسکیم کے تحت سرکاری کوٹے کے ذریعے داخلہ لینے والی اہل مسلم طالبات کی مکمل انڈرگریجویٹ ٹیوشن فیس حکومت برداشت کرے گی۔ اس سہولت سے سرکاری، سرکاری امداد یافتہ اور خود مالی اعانت پر چلنے والے تعلیمی اداروں میں آرٹس، سائنس، انجینئرنگ، طب، زراعت اور قانون سمیت مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کرنے والی طالبات مستفید ہوں گی۔
حکومت نے اس منصوبے کے لیے ابتدائی طور پر 20 کروڑ روپے مختص کیے ہیں، جس کا مقصد مسلم خواتین کے لیے اعلیٰ تعلیم کے مواقع بڑھانا اور مالی رکاوٹوں کو کم کرنا ہے۔
اسی کے ساتھ تمل ناڈو وقف بورڈ نے مسلم طالبات کے لیے تعلیمی وظائف کا دائرہ بھی وسیع کر دیا ہے۔ پہلے یہ وظیفہ پہلی سے آٹھویں جماعت تک محدود تھا، تاہم اب اسے نویں اور دسویں جماعت تک بڑھا دیا گیا ہے۔ توسیع شدہ اسکیم کے تحت اہل طالبات کو سالانہ 2 ہزار روپے وظیفہ دیا جائے گا، جس سے تقریباً 41 ہزار 384 طالبات مستفید ہوں گی، جبکہ اس منصوبے پر 8.28 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔
علاوہ ازیں تمل ناڈو وقف بورڈ نے چنئی میں اقلیتی خواتین کے لیے ایک خصوصی آرٹس اینڈ سائنس کالج قائم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ وزیر اے۔ ایم۔ شاہجہاں کے مطابق اس منصوبے کے لیے ابتدائی طور پر 2.45 کروڑ روپے کی گرانٹ مختص کی گئی ہے تاکہ مسلم اور دیگر اقلیتی خواتین کو اعلیٰ تعلیم کے مزید بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
یہ اقدامات ریاست میں اقلیتی برادری، خصوصاً مسلم خواتین کی تعلیمی ترقی، مالی معاونت اور اعلیٰ تعلیم تک رسائی کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








