پنجاب میں فوڈ سیکٹر کی جانب سے صارفین سے مبینہ طور پر قانون کے خلاف ورزی کرتے ہوئے مقررہ شرح سے زائد سیلز ٹیکس وصول کیے جانے کا سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے جہاں ڈیجیٹل ادائیگیوں پر ملنے والے ٹیکس ریلیف کا فائدہ عام شہریوں تک نہیں پہنچایا جا رہا۔
ذرائع کے مطابق معروف فوڈ چینز اور کافی شاپس کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے بل کی ادائیگی کرنے والے صارفین سے بھی پورا 16 فیصد ٹیکس وصول کر رہی ہیں۔
قوانین کے مطابق پنجاب ریونیو اتھارٹی نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینے کے لیے مختلف سروسز پر ٹیکس کی شرح میں نمایاں رعایت دے رکھی ہے۔
اس کے تحت کریڈٹ، ڈیبٹ کارڈ اور دیگر ڈیجیٹل طریقوں سے ادائیگی پر ٹیکس کی شرح محض 5 یا 8 فیصد مقرر ہے جبکہ صرف کیش (نقد) ادائیگی کی صورت میں ہی ٹیکس کی شرح 16 فیصد لاگو ہوتی ہے۔
زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں کیش پر 16 فیصد ٹیکس ہونے کے باوجود ڈیجیٹل ادائیگیوں پر بھی گاہکوں سے ہوشربا 16 فیصد ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے اور قومی و بین الاقوامی فوڈ برانڈز اس رعایتی ٹیکس پالیسی کو کھلم کھلا ہوا میں اڑا رہے ہیں۔
صارفین نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ڈیجیٹل ادائیگیوں پر مقررہ رعایتی ٹیکس کا نفاذ یقینی بنایا جا سکے اور مہنگائی کے مارے عوام کو اس اضافی بوجھ سے نجات مل سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








