قصور کے علاقے گنڈا سنگھ والا میں اہلِ علاقہ کی جانب سے پولیس پارٹی پر حملے کا انوکھا واقعہ پیش آیا ہے، جہاں مبینہ طور پر مشتعل افراد نے پولیس کی حراست میں موجود اشتہاری ملزم کو چھڑا لیا۔ واقعے کے بعد پولیس نے قانونی کارروائی شروع کردی ہے۔
پنجاب پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے سرکاری پولیس گاڑی کو راستے میں روک کر اہلکاروں کو قابو کیا اور مبینہ طور پر انہیں یرغمال بنا کر تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس دوران پولیس اہلکاروں کی وردیاں بھی پھاڑ دی گئیں، جس کے باعث صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملہ کرنے والے افراد پولیس کی تحویل میں موجود اشتہاری ملزم شہزاد عرف شادی کو بھی زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔ ملزم کو چھڑانے کے بعد حملہ آور موقع سے فرار ہوگئے، جبکہ پولیس نے واقعے میں ملوث افراد کی تلاش شروع کردی ہے۔
واقعے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، جس میں متعدد اہلِ علاقہ کو پولیس پارٹی کے اہلکاروں پر تشدد کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد واقعے کی نوعیت اور حملے میں ملوث افراد کے کردار پر بھی توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔
پولیس نے واقعے کے خلاف ایس ایچ او کی مدعیت میں مجموعی طور پر 35 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے، جن میں 20 ملزمان نامزد جبکہ 15 نامعلوم ہیں۔ مقدمے میں سنگین نوعیت کی دفعات شامل کی گئی ہیں، جبکہ پولیس کی جانب سے واقعے کی مزید تفتیش اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








