راولپنڈی: ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ دہشت گرد ہتھیار ڈال دیں، ورنہ ہم انہیں ختم کردیں گے۔ یا تو ہتھیار ڈالیں یا پھر ہم قانون کے مطابق ان سے لڑیں گے۔
تفصیلات کے مطابق آج میڈیا بریفنگ کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہارڈ اسٹیٹ وہ ہے جہاں تمام معاملات آئین و قانون کے مطابق ہی ہوں۔ کیا ہم اپنے حقوق کی بات کرنے سے قبل اپنے فرائض سے آگاہ ہیں؟ کچھ جماعتوں کی جانب سے حقوق کی بات تو کی جاتی ہے لیکن کیا فرائض سے بھی آگہی ہے؟
میڈیا بریفنگ کے دوران لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ بلوچستان میں 31 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔ خیبر پختونخوا میں ایسے آپریشنز کی تعداد 7 ہزار سے زائد رہی۔ آپریشنز کے دوران 2 ہزار 84 دہشت گردوں کو جہنم واصل کردیا گیا ہے۔ بم دھماکوں میں زیادہ تر افغان شہری ملوث تھے۔
بریفنگ کے دوران ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں 322 پاکستانی شہری شہید ہوگئے اور فوج کے 303جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ جان بوجھ کر یہ تأثر پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ بلوچستان میں حالات خراب ہیں۔ دہشت گردوں کو اب سمجھ آگیا کہ ان سے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 5 واضح کرتا ہے کہ وفاداری صرف ریاست سے ہوگی۔ بلوچستان سے متعلق جان بوجھ کر منفی پراپیگنڈہ کیا جارہا ہے۔ ہماری سب سے پہلی پہچان پاکستانی ہے۔ کوئی دوسری قومیت نہیں۔ ریاست ہے تو سیاست ہے، جان ہے اور نام ہے۔ معرکہ حق میں حکمت عملی ناکام ہونے پر بلوچستان میں نظریں جمائی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل نے چند دن پہلے بالکل واضح انداز میں بات کی۔ افغان طالبان رجیم دہشت گردوں کو سپورٹ کررہی ہے۔ دہشت گردوں کا ایک قبیلہ ہے جس میں اسٹیٹس کو ہے۔ اسٹیٹس کو یہ ہے کہ غریب کا بچہ تعلیم حاصل نہ کرے بلکہ ہمیشہ ان کا غلام رہے۔ یہ لوگ بلوچستان کی ترقی کے خلاف ہیں۔ صوبے کے حالات خراب کرنے میں مخصوص عناصر ملوث ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








