کراچی کے ضلع ملیر کے علاقے بھینس کالونی میں ڈکیتی کی وارداتوں پر شہریوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ سکھن تھانے کی حدود میں بھینس کالونی روڈ نمبر 5 پر واقع مصطفیٰ جنرل و میڈیکل اسٹور میں مبینہ طور پر 10 سے زائد مسلح ملزمان نے داخل ہوکر دکان اور وہاں موجود تقریباً 25 افراد کو لوٹ لیا۔
ذرائع کے مطابق مسلح ملزمان واردات کے دوران دکان میں موجود افراد سے نقدی، موبائل فونز اور دیگر قیمتی سامان چھیننے کے بعد موقع سے فرار ہوگئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی سامنے آنے کی اطلاعات ہیں جن میں مبینہ طور پر ملزمان کی نقل و حرکت ریکارڈ ہوئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کی سنگینی کے باوجود متاثرہ افراد کی جانب سے سکھن تھانے میں باقاعدہ شکایت درج نہیں کروائی گئی۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ پولیس کی مبینہ ناقص کارکردگی کے باعث عوام میں جرائم کی وارداتوں کے خلاف کارروائی کے حوالے سے مایوسی بڑھ رہی ہے۔
دوسری جانب مقامی ذرائع کی جانب سے سکھن تھانے کے ایس ایچ او پر جرائم پیشہ عناصر اور گٹکا ماوا، جوئے اور سٹے سے وابستہ افراد سے مبینہ طور پر ہفتہ وار بھتہ یا بیٹ وصول کرنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں تاہم ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی اور پولیس کا موقف سامنے نہیں آسکا۔
شہریوں اور علاقہ مکینوں نے ایس ایس پی ملیر سے مطالبہ کیا ہے کہ بھینس کالونی میں بڑھتی ہوئی مبینہ وارداتوں کا نوٹس لیتے ہوئے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے موثر کارروائی کی جائے جبکہ پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کی بحالی کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بھینس کالونی میں بار بار ہونے والی وارداتوں کے تناظر میں اس پہلو کی بھی تحقیقات ضروری ہیں کہ جرائم پیشہ عناصر کو کسی سطح پر معلومات، سہولت یا پناہ تو فراہم نہیں کی جا رہی۔
ملیر میں دیگر وارداتیں بھی پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان
ضلع ملیر میں حالیہ عرصے کے دوران دیگر سنگین جرائم کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ گلشن حدید میں ایک موبائل شاپ پر مبینہ طور پر کروڑوں روپے کی ڈکیتی کے واقعے کے بعد دو ایس ایچ اوز تبدیل کیے گئے تاہم فراہم کردہ معلومات کے مطابق ملزمان تاحال گرفتار نہیں ہوسکے۔
گڈاپ ٹاؤن کی حدود میں ایک گھر میں ڈکیتی کے دوران 8 کروڑ روپے سے زائد مالیت کا سامان اور نقدی لوٹے جانے کا دعویٰ بھی سامنے آیا تاہم اس واردات کے ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سے تاحال پیش رفت نہیں ہوسکی۔
اسی طرح ملیر سٹی تھانے کی حدود سے گلا کٹی حالت میں نوجوان کی لاش ملنے کا واقعہ بھی تاحال معمہ بنا ہوا ہے اور فراہم کردہ معلومات کے مطابق مقتول کی شناخت نہیں ہوسکی۔
شاہ لطیف ٹاؤن کی حدود میں دوران ڈکیتی 17 سالہ نوجوان کے قتل کا واقعہ بھی شہریوں کے لیے باعث تشویش ہے جبکہ اس واردات میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سے بھی تاحال کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع ملیر میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور سنگین مقدمات میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








