دبئی پولیس نے شہریوں کو آن لائن فراڈ سے محفوظ رکھنے کے لیے کارروائی کرتے ہوئے 2026 کی دوسری سہ ماہی میں دھوکہ دہی کے لیے استعمال ہونے والے 103 سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے۔
پولیس کے مطابق رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران فراڈ، سائبر کرائم، اقتصادی جرائم اور دیگر اہم جرائم کے اشارے 2025 کے اسی عرصے کے مقابلے میں کم ہوئے ہیں تاہم پولیس نے جرائم کی مجموعی تعداد یا کمی کی شرح ظاہر نہیں کی۔
یہ اعداد و شمار میجر جنرل حارب محمد الشمسی، ڈپٹی کمانڈر ان چیف برائے کریمنل افیئرز کی زیر صدارت ہونے والے کارکردگی جائزہ اجلاس میں پیش کیے گئے۔
دبئی پولیس نے جرائم میں کمی کی وجہ مؤثر فیلڈ آپریشنز، پیشگی تحقیقات، عوامی آگاہی مہمات اور مختلف اداروں کے درمیان بہتر تعاون کو قرار دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) اور جرائم سے متعلق ڈیٹا تجزیے کا استعمال بڑھایا جا رہا ہے جس سے افسران نہ صرف جرائم پر کارروائی کرتے ہیں بلکہ ممکنہ خطرات کی پیشگی نشاندہی بھی کر سکتے ہیں۔
سوشل میڈیا فراڈ سے امریکا میں اربوں ڈالر کا نقصان
پولیس کے مطابق سوشل میڈیا کے ذریعے ہونے والے فراڈ صرف متحدہ عرب امارات تک محدود نہیں۔ امریکا میں فیڈرل ٹریڈ کمیشن کے مطابق 2025 میں فراڈ کے باعث رقم کھونے والے تقریباً 30 فیصد افراد نے بتایا کہ دھوکہ دہی کا آغاز سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے ہوا تھا۔
امریکا میں سوشل میڈیا فراڈ سے رپورٹ ہونے والا نقصان 2.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جو 2020 کے مقابلے میں آٹھ گنا زیادہ ہے۔ ان میں سرمایہ کاری کے فراڈ سے ہونے والا نقصان 1.1 ارب ڈالر رہا، جبکہ خریداری سے متعلق اسکیمیں سب سے زیادہ رپورٹ ہونے والی دھوکہ دہی کی قسم تھیں۔
جعلی ویزوں، چھٹیوں اور انشورنس کے نام پر فراڈ
دبئی پولیس کی جانب سے 103 اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب فراڈیے سوشل میڈیا اور میسجنگ ایپس کے ذریعے جعلی خدمات اور غیر حقیقی پیشکشیں فروخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
18 جولائی کو دبئی پولیس نے شہریوں کو خبردار کیا تھا کہ کچھ افراد جعلی کمپنیوں کے نام استعمال کرکے یا خود کو سرکاری اداروں کا نمائندہ ظاہر کرکے ملازمت، رہائشی اور وزٹ ویزوں کے نام پر رقم وصول کر رہے ہیں۔
پولیس نے اس سے قبل جعلی سفری ویب سائٹس اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے متعلق بھی انتباہ جاری کیا تھا جہاں انتہائی کم قیمت پر چھٹیوں کے پیکجز، ہوٹل بکنگ اور ایئر ٹکٹس کی پیشکش کی جاتی تھی۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ صرف لائسنس یافتہ ایجنسیوں اور قابل اعتماد پلیٹ فارمز سے بکنگ کریں، ویب سائٹ کے پتے کی تصدیق کریں اور دباؤ میں آکر فوری ادائیگی سے گریز کریں۔
16 جون کو پولیس نے جعلی گاڑی اور ہیلتھ انشورنس پالیسیوں کے بارے میں بھی خبردار کیا تھا۔ فراڈیے غیر معمولی کم قیمتوں پر پالیسیوں کا جھانسہ دے کر رقم منتقل کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے، جبکہ ان کی کمپنی یا بروکر کی قانونی حیثیت کی تصدیق نہیں کی جاتی تھی۔
غیر مجاز ویزا سروسز کے خلاف کارروائی
دبئی کے محکمہ اقامہ و غیر ملکی امور نے بھی سوشل میڈیا پر غیر قانونی ویزا اور رہائشی خدمات فراہم کرنے والے اکاؤنٹس کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔
ادارے کے مطابق جون میں تحقیقات کے دوران ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر متعدد خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی اور ان کے خلاف اقدامات کیے گئے۔ حکام نے خبردار کیا کہ غیر تصدیق شدہ سروس فراہم کرنے والے افراد شہریوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور سرکاری طریقہ کار سے متعلق غلط معلومات پھیلا سکتے ہیں۔
فراڈ کی صورت میں کیا کریں؟
میجر جنرل حارب محمد الشمسی نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی ذاتی یا بینکنگ معلومات کسی غیر معتبر فرد یا ادارے کے ساتھ شیئر نہ کریں اور مشکوک سرگرمی فوری رپورٹ کریں۔
انہوں نے کہا کہ رقم منتقل کرنے سے پہلے کمپنیوں، بروکرز اور سروس فراہم کرنے والوں کی سرکاری ذرائع سے تصدیق ضروری ہے خاص طور پر جب کوئی پیشکش غیر معمولی کم قیمت یا فوری ادائیگی کا مطالبہ کرے۔
دبئی میں آن لائن فراڈ کی شکایت دبئی پولیس کی اسمارٹ ایپ، eCrime پلیٹ فارم یا 901 پر کال کرکے درج کروائی جا سکتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








