انڈونیشیا کے مشرقی صوبے نوسا تنگارا میں ہفتے کو آنے والے شدید زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 50 سے زائد ہوگئی، جبکہ 113 افراد زخمی ہوئے۔زلزلے کے بعد آنے والے آفٹر شاکس کی تعداد 340سے بھی زائد ہوگئی۔
تفصیلات کے مطابق انڈونیشیا کے نائب وزیرِ صحت بینجمن پالوس اوکتاویانوس نے ایک اجلاس میں بتایا کہ زلزلے کے بعد کئی سڑکیں بند ہوگئیں اور مختلف مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات بھی پیش آئے، جبکہ 341 آفٹر شاکس ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔زلزلے کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 54 ہوگئی ہے۔
انڈونیشین ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق سکا کے علاقے میں 3,300 سے زیادہ افراد اپنے گھروں سے نکل کر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے پر مجبور ہوئے۔ شہریوں نے ایک اسپورٹس ایرینا میں پناہ لے لی۔ متعدد متاثرین تباہ شدہ گھروں کے باہر ترپالوں سے بنائے گئے عارضی خیموں میں رہ رہے ہیں، جبکہ ساحلی شہر ماؤمیرے میں زخمی افراد کے علاج کے لیے ہسپتال کے باہر بھی عارضی طبی خیمے قائم کیے گئے ہیں۔
مقامی نائب ضلعی سربراہ سائمن سوباندی کے مطابق زلزلے سے متأثرہ علاقے کے بیشتر شہری زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کے باعث گھروں کے اندر جانے سے خوفزدہ ہیں اور انہوں نے رات برآمدوں یا باہر قائم خیموں میں گزاری۔ کابینہ سیکرٹری ٹیڈی اندرا وجایا کے مطابق امدادی سرگرمیوں میں مدد کے لیے علاقے میں 3,500 سے زائد فوجی اور پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق امدادی کارکن لینڈ سلائیڈنگ کے باعث متاثر ہونے والے ماؤمیرے کے بعض علاقوں تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی نے بتایا کہ لاپتہ افراد کی حتمی تعداد فی الحال معلوم نہیں، تاہم متعدد افراد ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ زلزلے کے نتیجے میں 1,300 سے زیادہ مکانات کو بھی نقصان پہنچا جبکہ 20 پیٹرول اسٹیشن بند ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








