لاہور میں پولیس افسران کو ملزمان نے کیسے قتل کیا؟ اہم انکشافات سے بھرپور رپورٹ

تازہ ترین

تازہ ترین

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ سے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ مرتب کی ہے، جس میں وارداتوں کی منصوبہ بندی، ملزمان کی نقل و حرکت اور فائرنگ کے واقعات کی اہم تفصیلات شامل ہیں۔

تفصیلات کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حملہ آوروں نے پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے لیے پہلے ہی مختلف اوقات اور مقامات کا تعین کر رکھا تھا، جبکہ مبینہ دہشت گردوں سے رابطے کے الزام میں گرفتار تین اہلکاروں کو تفتیش کے بعد چھوڑ دیا گیا۔

خصوصی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاہور کے علاقے بادامی باغ میں فیاض بٹ، ریحان بٹ اور طارق نے کلاشنکوف سے فائرنگ کرکے ایک سب انسپکٹر اور کانسٹیبل کو شہید کیا۔ اس کے بعد تینوں ملزمان رکشے کے ذریعے نواں کوٹ پہنچے، جہاں پٹرول پمپ پر موجود ایک پولیس کانسٹیبل کو بھی فائرنگ کرکے نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حملوں کے لیے وقت اور جگہ پہلے سے مقرر تھی، جو اس کارروائی کی منظم منصوبہ بندی کی نشاندہی کرتی ہے۔دوسری طرف ٹارگٹ کلنگ میں مبینہ طور پر ملوث فیاض بٹ اور ریحان بٹ کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کے بعد سی ٹی ڈی کے نگرانی کے طریقۂ کار پر بھی سوالات سامنے آئے ہیں۔

اداروں کا ماننا ہے کہ 2024 میں ایک مبینہ مقابلے میں مارے گئے دہشت گرد اور تین پولیس اہلکاروں کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث فیضان بٹ کے خاندان کی سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی نہیں ہو سکی اور اسی خاندان نے آگے چل کر پولیس کو نشانہ بنایا۔

 چند روز قبل مبینہ مقابلے میں ہلاک ہونے والا فیاض بٹ، فیضان بٹ کا والد، جبکہ ریحان بٹ اس کا بھائی تھا۔رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والے ریحان بٹ اور فرار ملزم طارق کے خلاف ماضی میں بھی مقدمات درج تھے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ مبینہ دہشت گردوں کے ساتھ براہِ راست یا بالواسطہ روابط کے شبہ میں اب تک 5 پولیس اہلکاروں سے پوچھ گچھ کی جا چکی ہے۔تفتیش مکمل ہونے کے بعد تین اہلکاروں کو رہا کردیا گیا، جبکہ دو پولیس اہلکاروں اور ایک رکشہ ڈرائیور سے مزید تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔

Related Posts