تہران: ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نماز جنازہ قم میں بھی ادا کردی گئی۔ لاکھوں افراد نے تاریخی جلوس میں شرکت یقینی بنائی اور قم شہر کے مضافات میں واقع مسجد جمکران میں سابق سپریم لیڈر اور ان کے 4اہل خانہ کی نماز جنازہ ادا کی۔
نماز جنازہ کیلئے مسجد مین سوگواروں کی بڑی تعداد جمع ہوگئی۔ سابق سپریم لیڈر کا جسدِ خاکی تہران کے جنوب میں واقع شہر قم پہنچایا گیا۔ منگل کے روز نکلنے والے جلوس میں لاکھوں افراد شریک ہوئے۔ ایران میں جاری 6روزہ سوگ کی تقریبات کا اختتام جمعرات کو مشہد میں سابق سپریم لیڈر کی تدفین پر ہوگا۔
ایران کے سرکاری ٹی وی نے تہران کی بڑی شاہراہوں پر گزشتہ روز نکلنے والے جلوس میں شامل افراد کا سمندر دکھایا اور بتایا گیا کہ جنازے میں کالے لباس میں ملبوس غمزدہ افراد نے سابق سپریم لیڈر سمیت ان کے خاندان کے تابوتوں پر پھولوں کی سرخ پتیاں نچھاور کیں۔
عالمی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی شہریوں کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل چاہتے تھے کہ ایران کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے، تاہم سپریم لیڈر نے یہ تقسیم روک دی۔ ایرانی عوام اپنے آنجہانی رہنما کا شکریہ ادا کرنے کیلئے آئے ہیں اور انہیں ان کے اس کام پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
ایرانی شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے شہید رہنما کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اس کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، وہ یہاں ان سے اپنی وفاداری کے عہد کی تجدید کرنے آئے ہیں۔ تمام تر رسومات کے دوران آیت اللہ خامنہ ای کے موجودہ جانشین مجتبیٰ خامنہ ای کہیں نظر نہیں آئے۔
بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق سپریم لیڈر کے جنازے میں 2005 سے 2013 تک ایران میں صدر رہنے والے محمود احمدی نژاد نے بھی شرکت کی جو صدارت کے آخری دور میں آیت اللہ خامنہ سے اختلافات رکھتے تھے اور جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک عوام کے سامنے نہیں آئے تھے۔
حکام کاماننا ہے کہ قم میں تمام تر رسومات کی ادائیگی کے بعد بدھ کے روز شہید سپریم لیڈر کے جسدِ خاکی کو عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا لے جایا جائے گا جہاں الوداعی تقریبات کا انعقد ہوگا اور جمعرات کے روز انہیں آبائی شہر مشہد میں سپردِ خاک کردیا جائے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








