یروشلم کا ذکر نصاب سے خارج! سعودی عرب کے فیصلے پر اسرائیل میں خوشی کیوں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

سعودی عرب نے مبینہ طور پر اپنے اسکولوں کے نصاب سے مسلمان کبھی یروشلم سے دستبردار نہیں ہوں گے کا جملہ اور بعض مذہبی متون نکال دئیے ہیں جس پر اسرائیل میں قائم ایک تحقیقی ادارے اور دیگر اسرائیلی میڈیا کی جانب سے مثبت ردعمل سامنے آیا ہے۔

اسرائیل میں قائم تحقیقی تنظیم امپیکٹ-ایس ای نے جولائی کے آخر میں سعودی درسی کتب کا جائزہ شائع کیا۔ رپورٹ میں یروشلم سے متعلق مذکورہ جملے کے اخراج کو مثبت پیش رفت قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ پرانی عبارت سے یہ تاثر ملتا تھا کہ شہر پر مسلمانوں کا کنٹرول خطرے میں ہے، جبکہ اسے اسرائیل کے ساتھ جاری تنازع کے تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا تھا۔

جائزے میں ایک معروف حدیث کو نصاب سے نکالے جانے کو بھی سراہا گیا جس میں حضرت محمد ﷺ کے ایک بیمار یہودی بچے کی عیادت کرنے اور بعد ازاں اس بچے کے اسلام قبول کرنے کا ذکر آتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2025 کے ایڈیشن میں یہ مثال شامل نہیں ہے۔ امپیکٹ-ایس ای نے اس تبدیلی کو مذہبی اقلیتوں کو قبول کرنے کے حوالے سے بہتری قرار دیا ہے۔

یہ تبدیلیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب اسرائیلی سیاست دان مسجد اقصیٰ کی جگہ یہودی معبد تعمیر کرنے کے مطالبات میں اضافہ کر رہے ہیں۔

مسجد اقصیٰ اسلام کے تیسرے مقدس ترین مقام کی حیثیت رکھتی ہے۔ سعودی حکام نے تاحال نصاب میں کی جانے والی ان تبدیلیوں پر عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

Related Posts