کراچی: ولیکا اسپتال سے منسلک ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کے معاملے میں ایک اور کیس سامنے آگیا ہے، جہاں 18 ماہ کے ایک بچے کے جسم میں ایچ آئی وی کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔ حکام نے جمعرات کو بتایا کہ اس نئے کیس کے بعد متاثرہ افراد کی تصدیق شدہ تعداد 95 ہوگئی ہے، جبکہ اب تک 9 بچے جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق متاثرہ بچے کے والد عبدالصمد کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کا علاج دسمبر 2025 میں ولیکا اسپتال میں ہوا تھا، جس کے بعد وہ مسلسل مختلف بیماریوں کا شکار رہنے لگا۔
واضح رہے کہ اس معاملے کا انکشاف پہلی بار اکتوبر 2025 میں ہوا تھا، جب ابتدائی تحقیقات کے دوران شعبۂ اطفال سے منسلک کئی بچوں میں ایچ آئی وی کی نشاندہی ہوئی۔ اس کے بعد متاثرہ افراد کی اسکریننگ اور تحقیقات کا سلسلہ 2026 تک جاری رہا۔
یاد رہے کہ سندھ کے وزیر محنت سعید غنی نے 13 جولائی 2026 کو بتایا تھا کہ 10 ہزار 500 سے زائد افراد کی اسکریننگ کے دوران 120 افراد میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی۔ ان میں 81 افراد سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن (سیسی) سے تعلق رکھتے تھے، جبکہ 39 غیر مستفید افراد کو بھی مفت علاج فراہم کیا جا رہا تھا۔
اس سے قبل 3 جولائی کو سامنے آنے والی وفاقی وزارتِ صحت کی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ یہ وبا ایک ہی سرنج کو متعدد نومولود بچوں پر دوبارہ استعمال کرنے کے باعث پھیلی۔ رپورٹ کے مطابق متاثرہ افراد کی تعداد کم از کم 104 تھی، جن میں 95 بچے شامل تھے۔
اسی طرح نومبر 2025 میں سیسی (سیسی) اور محکمہ محنت کی ابتدائی تحقیقات میں اسپتال کے نظام میں سنگین بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی تھی، جن میں ناقص جراثیم کشی، طبی فضلے کو ٹھکانے لگانے کے غیر معیاری طریقے، معیاری عملی ضابطوں (ایس او پیز) کی عدم موجودگی، اور سرنجوں سمیت ایک بار استعمال ہونے والے طبی سامان کے دوبارہ استعمال کے شواہد شامل تھے۔
اس صورتحال کے پیشِ نظر حکومت نے نومبر 2025 کے آخر میں ولیکا اسپتال میں اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی (اے آر ٹی) سینٹر قائم کیا، 37 ڈاکٹروں اور عملے کو شوکاز نوٹس جاری کیے، جبکہ غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی کی ہدایات بھی جاری کیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے متاثرہ خاندانوں کے لیے بلا تعطل علاج، طویل المدتی بحالی اور ذمہ داران کے احتساب کو بھی یقینی بنانے کا حکم دیا۔
دوسری جانب پٹھان کالونی اور گردونواح کے علاقوں میں والدین شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں۔ مقامی خاندانوں کا کہنا ہے کہ تشخیص سے قبل متعدد بچوں کو مسلسل بخار اور کمزوری جیسی علامات کا سامنا رہا۔ بعض رہائشیوں کا دعویٰ ہے کہ علاقے میں 100 سے زائد بچے متاثر ہوئے ہیں، تاہم سرکاری اعداد و شمار اس سے کم تعداد ظاہر کرتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








