پاکستان نے مالدیپ میں جاری ڈائمنڈ جوبلی انٹرنیشنل فٹبال ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فائنل تک رسائی حاصل کرلی ہے۔
تفصیلات کے مطابق قومی فٹبال ٹیم نے اتوار کو کھیلے گئے اپنے آخری راؤنڈ رابن مقابلے میں افغانستان کو 2-0 سے زیر کرکے مسلسل دوسری فتح اپنے نام کی اور یوں 35 سال بعد کسی سینئر بین الاقوامی ایونٹ کے فائنل تک رسائی حاصل کرلی۔
پاکستان کی جانب سے عمر نواز اور ہارون حامد نے ایک، ایک گول اسکور کیا۔ اس کامیابی کے بعد گرین شرٹس نے چار ملکی ٹورنامنٹ میں تین میچز میں سے دو میں کامیابی سمیٹتے ہوئے فائنل میں جگہ بنالی۔
قومی سینئر مینز فٹبال ٹیم 1991 کے ساؤتھ ایشین فیڈریشن (سیف) گیمز کے بعد پہلی بار کسی بین الاقوامی فائنل میں شرکت کرے گی، جبکہ 1962 کے مردیکا ٹورنامنٹ کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کسی آزاد یا اسٹینڈ الون عالمی فٹبال ایونٹ کے فائنل تک پہنچا ہے۔
اس سے قبل 1962 کے مردیکا ٹورنامنٹ کے فائنل میں پاکستان کو انڈونیشیا کے خلاف 2-1 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور ٹیم ٹائٹل اپنے نام کرنے میں ناکام رہی تھی۔
مالدیپ کے خلاف 3-0 کی تاریخی کامیابی کے بعد پاکستان کو فائنل میں پہنچنے کیلئے افغانستان کے خلاف صرف ایک ڈرا کافی تھا، تاہم کوچ نولبرٹو سولانو کی زیر قیادت ٹیم نے دفاعی حکمت عملی کے بجائے جارحانہ کھیل پیش کرتے ہوئے آغاز سے ہی حریف ٹیم کو دباؤ کا شکار کردیا۔
میچ کے پانچویں منٹ میں پاکستان نے برتری حاصل کی جب شائق دوست کی عمدہ کراس پر عمر نواز نے ایک ٹچ میں گیند کو نیٹ میں پہنچا دیا۔ ابتدائی گول کے بعد بھی قومی ٹیم نے کھیل کا کنٹرول برقرار رکھا اور افغانستان کو مؤثر حملے ترتیب دینے کا زیادہ موقع نہ دیا۔
پہلے ہاف کے دوران پاکستان نے مزید خطرناک مواقع بھی پیدا کیے، اسی دوران عیسیٰ سلیمان گول کے قریب پہنچے مگر ان کی کوشش بار کے اوپر سے نکل گئی، جبکہ انجری ٹائم میں افغانستان کے کپتان امید پوپلزئی کی فری کک کراس بار سے ٹکرا کر واپس آگئی۔
وقفے کے بعد افغانستان نے میچ میں واپسی کی کوشش کی لیکن پاکستان کا دفاع مضبوط اور منظم رہا، جس کے باعث حریف ٹیم خاطر خواہ مواقع پیدا نہ کرسکی۔ پاکستان نے جوابی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا اور ایک موقع پر شائق دوست کے خوبصورت پاس پر علی آغا گول کرنے کی اچھی پوزیشن میں آئے، تاہم ان کا شاٹ مقررہ ہدف سے باہر چلا گیا۔
میچ کے آخری لمحات میں پاکستان نے اپنی کامیابی کو اس وقت یقینی بنا لیا جب انجری ٹائم کے پہلے منٹ میں ہارون حامد دفاعی لائن کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے اور طاقتور شاٹ کے ذریعے دوسرا گول کرکے برتری کو دگنا کر دیا۔
ریفری کی اختتامی سیٹی بجتے ہی پاکستانی کھلاڑیوں اور ٹیم آفیشلز نے تاریخی کامیابی کا بھرپور جشن منایا۔ یہ فتح قومی ٹیم کی حالیہ مثبت پیش رفت کا ایک اور اہم باب ثابت ہوئی، جس نے چند روز قبل مالدیپ کو شکست دے کر 961 دن بعد بین الاقوامی سطح پر کامیابی حاصل کی تھی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








