کراچی: عدالتی حکم پر دہلی گورنمنٹ اسکول سیل، بچے تالا توڑ کر اندر داخل

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو: آن لائن)

کراچی میں عدالتی حکم کے تحت گورنمنٹ دہلی اسکول کو سیل کیے جانے پر طلبہ، اساتذہ اور والدین نے شدید احتجاج کیا۔ احتجاج کے دوران کم عمر بچوں نے اسکول کا تالا توڑ دیا اور عمارت کے اندر داخل ہوگئے، جس کے باعث صورتحال خاصی کشیدہ ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق اسکول کے باہر بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات اپنے اساتذہ اور والدین کے ہمراہ موجود رہے۔ بچوں نے ہاتھوں میں مختلف پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جبکہ انہوں نے سڑک پر اسمبلی بھی منعقد کی اور اسکول کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج ریکارڈ کرایا۔

طلبہ اور اساتذہ نے واضح کیا کہ اگر اسکول کی عمارت دوبارہ نہیں کھولی گئی تو وہ سڑک پر ہی کلاسز کا انعقاد شروع کردیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کی تعلیم متاثر نہیں ہونی چاہیے اور مسئلے کا فوری حل نکالا جانا ضروری ہے۔

محکمہ ایجوکیشن حکام کا کہنا ہے کہ محکمہ عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کر رہا ہے اور  امید ہے کہ عدالت محکمہ تعلیم کا مؤقف سنے گی اور تعاون کرے گی، جبکہ اسکول کو بچانے کے لیے قانونی راستہ اختیار کیا جا رہا ہے۔

اسکول کے پرنسپل علی خان میر جٹ نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں موجود بچوں کو کسی دوسری جگہ منتقل کرنا ممکن نہیں۔ ان کے مطابق آس پاس کوئی ایسا بڑا اسکول موجود نہیں جہاں تمام طلبہ کو داخل کیا جاسکے۔ اسکول میں 2800 سے زائد بچے زیر تعلیم ہیں، جن میں تقریباً 2100 طالبات اور 700 طلبہ شامل ہیں۔

ایک ٹیچر نے وزیر تعلیم سردار شاہ سے اپیل کی کہ اسکول کی عمارت خرید کر اسے محکمہ تعلیم کے حوالے کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارے کی تاریخی اہمیت بھی ہے، کیونکہ 1965 سے 1996 تک اسکول میٹرک سائنس کے نتائج میں مسلسل نمایاں پوزیشن حاصل کرتا رہا، جبکہ رواں سال بھی میٹرک کا نتیجہ 93 فیصد رہا۔

ڈائریکٹر اسکولز کراچی ارشد بیگ کے مطابق دہلی اسکول کی عمارت اس سے قبل بھی 2007 میں عدالتی حکم کے باعث سیل کی گئی تھی۔ ان کے مطابق اس وقت کے سٹی ناظم مصطفیٰ کمال نے معاملے میں کردار ادا کیا تھا، جس کے بعد طلبہ نے سیل توڑ کر دوبارہ اسکول میں داخلہ لیا تھا۔

ارشد بیگ نے بتایا کہ 2007 سے اب تک محکمہ تعلیم عدالت میں اس مقدمے کی پیروی کرتا رہا ہے۔ ان کے مطابق متعلقہ فریق کو اسکول کی عمارت کا کرایہ بھی مسلسل ادا کیا جاتا رہا، اور جون 2026 تک کا کرایہ بھی متعلقہ فریق کو ادا کیا جاچکا ہے۔

انہوں نے ریونیو ڈپارٹمنٹ اور کمشنر کراچی سے مطالبہ کیا کہ اسکول کی عمارت خریدنے کے عمل کو تیز کیا جائے۔ ارشد بیگ کے مطابق بچوں کو متبادل اسکولوں میں منتقل کرنے کی کوشش بھی جاری ہے، تاہم طلبہ دوسری جگہ جانے پر آمادہ نہیں اور اپنے اسکول میں ہی تعلیم جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

Related Posts