راکھی ساونت مکہ مکرمہ میں خوفزدہ کیوں ہوئیں؟ اداکارہ نے ویڈیو کے ذریعے سب دکھا دیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اسکرین گریب)

بالی ووڈ اداکارہ راکھی ساونت جو اب راکھی فاطمہ کے نام سے جانی جاتی ہیں سعودی عرب کے شہر مکہ مکرمہ میں زائرین کے درمیان جائے نمازیں تقسیم کرتے ہوئے اچانک شدید ہجوم میں گھر گئیں۔ واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کرنے لگیں جن میں اداکارہ کو ہجوم کے باعث پریشان اور خوف زدہ دیکھا جاسکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق 47 سالہ اداکارہ عمرے کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ پہنچی تھیں اور انہوں نے اس موقع پر سیلاب سے متاثرہ نیپال میں پھنسے بچوں، بزرگوں، جانوروں اور دیگر تمام افراد کی سلامتی کے لیے بھی دعائیں کیں۔

زائرین میں جائے نمازیں تقسیم کرنے کے دوران بڑی تعداد میں لوگ راکھی کے اردگرد جمع ہوگئے اور مزید جائے نمازیں حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے لگے۔ اچانک بڑھنے والے ہجوم کے باعث اداکارہ واضح طور پر دباؤ میں دکھائی دیں اور صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کرتی رہیں۔

 

 

View this post on Instagram

 

A post shared by MM News (@mmnewsdottv)

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں راکھی کو لوگوں کے ہجوم کے درمیان صورتحال قابو میں رکھنے کی کوشش کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ وہ بظاہر خوف زدہ نظر آئیں تاہم اس دوران خود کو پرسکون رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے اللہ اکبر کا ورد بھی کرتی رہیں جبکہ لوگ مسلسل ان کے قریب آتے رہے۔

رپورٹس کے مطابق جائے نمازوں کی تقسیم مکمل ہونے کے بعد صورتحال مزید بے قابو ہوگئی۔ کچھ افراد راکھی کے پیچھے ایک دکان تک پہنچ گئے اور وہاں موجود باقی جائے نمازیں بھی لینے کی کوشش کرنے لگے۔ اسی دوران بعض افراد کو ان کا حجاب کھینچتے ہوئے بھی دیکھا گیا جس سے اداکارہ مزید خوف زدہ ہوگئیں۔

راکھی ساونت نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو بھی شیئر کی ہے جس میں وہ مکہ مکرمہ میں جائے نمازیں خریدتی اور پھر انہیں وہاں موجود دیگر زائرین میں تقسیم کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ ان کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو میں مقدس شہر میں اس فلاحی سرگرمی کی جھلکیاں بھی موجود ہیں۔

مذہبی سفر کے بارے میں راکھی کا موقف

یہ واقعہ راکھی ساونت کی جانب سے اپنی مذہبی زندگی اور سفر کے بارے میں کھل کر گفتگو کیے جانے کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔ انہوں نے ایک خصوصی انٹرویو میں اپنی مذہبی وابستگی اور ذاتی عقائد کے حوالے سے تفصیلات بیان کی تھیں۔

راکھی جو خود کو بھارت کی پہلی مواد تخلیق کار قرار دیتی ہیں، نے بتایا کہ ان کی پیدائش ایک ہندو خاندان میں ہوئی تھی تاہم بعد میں ان کی والدہ نے عیسائیت اختیار کرلی۔ راکھی نے ایک مسلمان شخص سے شادی کے بعد اسلام قبول کیا اور اپنا نام فاطمہ رکھ لیا۔

انہوں نے انٹرویو میں بتایا کہ وہ قرآن اور بائبل دونوں کا مطالعہ کرتی ہیں اور تمام انبیائے کرام پر ایمان رکھتی ہیں۔ ان کے مطابق وہ باقاعدگی سے نماز ادا کرتی ہیں، عمرہ بھی کرچکی ہیں اور اللہ پر یقین رکھتی ہیں۔ راکھی کا کہنا تھا کہ ان کا مذہب ان کا ذاتی معاملہ ہے اور ہر شخص کو اپنی پسند کا مذہب اختیار کرنے کا حق حاصل ہے۔

راکھی ساونت اس سے قبل بھارت اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے تقریباً 20 سے 21 مستحق افراد کے عمرے کے اخراجات بھی برداشت کرچکی ہیں۔ وہ ماضی میں نماز ادا کرنے مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ جانے کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر شیئر کرتی رہی ہیں۔

Related Posts