پنجاب میں معصوم شہریوں کی صحت سے کھیلنے والے سفاک اور جعلساز مافیا کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا سلسلہ جاری ہے اور اسی عزم کے تحت وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کے احکامات اور ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی کی خصوصی ہدایت پر کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔
تازہ ترین کارروائی کے دوران پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ٹیم نے شاہدرہ کے علاقے المدینہ کالونی میں ایک غیر قانونی مذبح خانے پر چھاپہ مارا جہاں انسانی جانوں سے کھلواڑ کا ہولناک کھیل جاری تھا۔
کارروائی کے دوران موقع سے ایک ہزار کلو گرام گلا سڑا، بدبودار اور ناقابلِ استعمال گوشت برآمد کرکے فوری طور پر تلف کر دیا گیا جبکہ موقع پر مزاحمت کرنے اور فرار ہونے کی ناکام کوشش کرنے والے مذبح خانے کے مالک کو حراست میں لے کر اس کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ڈی جی فوڈ اتھارٹی راجہ منصور احمد نے اس لرزہ خیز کارروائی کی تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ اس غیر قانونی مذبح خانے میں پہلے سے سیل شدہ اور بند پڑے سلاٹر ہاؤس کو انتہائی چالاکی سے بغیر کسی سرکاری اجازت کے دوبارہ فعال کیا گیا تھا اور وہاں غیر معیاری گوشت تیار کیا جا رہا تھا۔ جب ٹیم نے معائنہ کیا تو مذبح خانے کے اندر گوشت کے اوپر مکھیوں کی ہولناک بھرمار پائی گئی جبکہ وہاں موجود سٹوریج ایریا کی حالت بھی انتہائی ناقص اور غیر صحت مند تھی۔
فوڈ اتھارٹی کے ماہرِ امراضِ حیوانات (ویٹرنری سپیشلسٹ) نے گوشت کا باریک بینی سے تفصیلی معائنہ کیا جس کے بعد اس بھاری مقدار یعنی ایک ہزار کلو گرام گوشت کو انسانی صحت اور استعمال کے لیے مکمل طور پر زہرِ قاتل اور مضر قرار دے کر تلف کر ڈالا۔
ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے مزید بتایا کہ سلاٹرنگ ایریا کے اندر صفائی کا نام و نشان تک نہیں تھا وہاں کھلی نالیاں، ٹوٹے پھوٹے فرش، ہر طرف گندا پانی اور شدید تعفن پھیلا ہوا تھا، جبکہ اس غیر قانونی دھندے کو چلانے والوں کے پاس کوئی لازمی ریکارڈ، جانوروں کی ٹیگنگ کا نظام، قانونی لائسنس یا دیگر ضروری سرکاری دستاویزات کا نام و نشان تک موجود نہیں تھا۔
جب قانون نافذ کرنے والی ٹیم اپنی کارروائی میں مصروف تھی تو اس دوران مذبح خانے کے دندناتے ہوئے مالک نے سرکاری امور میں مداخلت کی اور مبینہ طور پر کارِ سرکار میں رکاوٹ ڈالی جس کے نتیجے میں وہاں ایک سرکاری موبائل بھی ٹوٹ گیا۔ اس نے موقع سے فرار ہونے کی بھی بھرپور کوشش کی لیکن الرٹ ٹیم نے اس کی تمام چالیں ناکام بناتے ہوئے اسے دبوچ لیا اور گرفتار کر لیا۔
ڈی جی فوڈ اتھارٹی راجہ منصور احمد نے دوٹوک الفاظ میں تنبیہ کی ہے کہ خوراک کا کوئی بھی کاروبار صرف اور صرف پنجاب فوڈ اتھارٹی کے طے کردہ قانونی ضوابط کے دائرے میں ہی کیا جا سکتا ہے اور معصوم بچوں اور بڑوں کی غذا میں جعلسازی اور ملاوٹ کرنے والے عناصر کسی بھی قسم کی رعایت کے ہرگز مستحق نہیں ہیں۔
انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ صحت کے دشمن اس مافیا کے خلاف زیرو ٹالرینس کی پالیسی کے تحت کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔ انہوں نے تمام شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ خوراک کے معیار یا اس سے متعلق کسی بھی شکایت کی صورت میں فوری طور پر پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ہیلپ لائن نمبر 1223 پر اطلاع فراہم کریں تاکہ بروقت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








