اسلام آباد: دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے مابین آنے والے دنوں میں مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق ہوگیا۔ پاکستانی اور قطری ثالثوں نے دوحہ میں الگ الگ ملاقاتیں کرکے مثبت پیشرفت میں اہم کردار ادا کیا۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں ثالثوں کی امریکی و ایرانی مذاکرات کاروں سے الگ الگ ملاقاتیں ہوئیں جس کے دوران اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے پہلوؤں پر اہم پیشرفت ممکن بنائی گئی۔
دفتر خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ پیشرفت لیک لوزرن سربراہی اجلاس میں سامنے آنے والی مثبت پیشرفت کو آگے بڑھاتے ہوئے ہوئی جبکہ اس موقعے پر فریقین نے آئندہ دنوں میں مذاکراتی عمل جاری رکھنے پر اتفاق رائے کا اظہار کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ آئندہ ملاقات سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی رسومات کے بعد جلد از جلد طے کی جائے گی۔ خیال رہے کہ ایران اور امریکا کے مابین حالیہ جھڑپوں کے بعد مذاکراتی عمل کھٹائی میں پڑ گیا تھا۔
دوسری جانب قائم مقام ایرانی وزیر دفاع ماجد ابن الرضا کا کہنا ہے کہ ایران کی فوجی صلاحیتیں ریڈ لائن ہیں اور امریکا سے مذاکرات کے دوران ان پر کوئی گفتگو نہیں ہوگی۔ اسلامی جمہوریہ ایران اپنی دفاعی، میزائل اورڈرون صلاحیتوں کو قومی سلامتی کیلئے ریڈ لائن سمجھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نہ یہ صلاحیتیں آج مذاکرات کے قابل ہیں اور نہ ہی مستقبل میں ان پر کوئی مذاکرات ہوسکتے ہیں۔ ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرامز کو مزید ترقی کی راہ پر گامزن رکھا جائے گا۔ واضح رہے کہ امریکا سے جنگ کے دوران ایران نے ہزاروں ڈرونز کا استعمال کیا جس سے مغربی دنیا تاحال صدمے کی کیفیت میں ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں







