پاکستان میں بجلی کے شعبے سے متعلق ایک بار پھر سنگین خدشات سامنے آ گئے ہیں، جہاں مہنگی بجلی کی خریداری، آئی پی پیز کے معاہدوں اور متبادل توانائی کے مؤثر استعمال نہ ہونے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
توانائی ماہرین کے مطابق ملک میں بجلی پیدا کرنے کا سب سے سستا ذریعہ پانی سے بجلی (ہائیڈرو پاور) ہے، جس کی لاگت بعض اندازوں کے مطابق فی یونٹ تین روپے تک آ سکتی ہے۔ پاکستان میں دریاؤں کے قدرتی بہاؤ کی وجہ سے یہ صلاحیت بھی موجود ہے کہ ملکی ضرورت سے کہیں زیادہ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے، تاہم اس شعبے میں پیش رفت سست روی کا شکار ہے۔
دوسری جانب آئی پی پیز (پرائیویٹ پاور پروڈیوسرز) کے ساتھ کیے گئے طویل المدتی معاہدوں پر بھی مسلسل تنقید کی جا رہی ہے۔ ناقدین کے مطابق ان معاہدوں کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار ہیں اور گردشی قرضے میں اضافہ ہو رہا ہے۔
توانائی شعبے میں ایک اور اہم تبدیلی سولر انرجی کے پھیلاؤ کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ شہریوں کی بڑی تعداد نے گھریلو سطح پر سولر سسٹمز نصب کر لیے ہیں، جس کے باعث دن کے اوقات میں نیشنل گرڈ پر انحصار کم ہو گیا ہے۔ اس صورتحال نے خاص طور پر دن کے وقت بجلی کی طلب و رسد کے توازن کو متاثر کیا ہے، جبکہ اصل دباؤ رات کے اوقات میں بڑھ جاتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ لیتھیم بیٹری ٹیکنالوجی نے بھی توانائی ذخیرہ کرنے کے نئے امکانات پیدا کیے ہیں، تاہم یہ نظام فی الحال مہنگا ہونے کے باعث عام صارف کی پہنچ سے باہر ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر زنک-آئرن اور سوڈیم آئن بیٹریز جیسے سستے متبادل بڑے پیمانے پر متعارف ہو جاتے ہیں تو صورتحال میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔
ادھر اطلاعات کے مطابق پاکستان میں کئی بڑے ہائیڈرو پاور منصوبے، جن میں 700 میگا واٹ پتن ہائیڈرو پاور پروجیکٹ، 1124 میگا واٹ کوہالہ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ اور 8 میگا واٹ کٹھائی ہائیڈرو پاور پروجیکٹ شامل ہیں، تاخیر کا شکار ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان منصوبوں پر مالیاتی اداروں کی جانب سے بھی خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں، اور بعض صورتوں میں سرمایہ کاری واپس لینے یا جرمانوں کی وارننگز بھی دی گئی ہیں۔
توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اپنے آبی وسائل سے بروقت اور مؤثر انداز میں بجلی پیدا کرنے کے منصوبے مکمل کر لے تو نہ صرف مہنگی بجلی پر انحصار کم ہو سکتا ہے بلکہ توانائی کے بحران پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








