بھارت کے اڈوپی ضلع میں سابق پنچایت صدر ڈیوڈ ڈی سوزا کے قتل کیس میں پولیس نے دو مزید افراد کو مبینہ مالی معاونت اور سازش کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتاریوں کے بعد کیس میں حراست میں لیے گئے افراد کی تعداد چھ ہو گئی ہے۔
پولیس کے مطابق ثبوت میں بینک ریکارڈ، کال ڈیٹا اور سی سی ٹی وی فوٹیج شامل ہیں۔ اس سے قبل سامنے آنے والی اطلاع کے مطابق ملزمان موٹر سائیکل پر آئے تھے اور پیچھے بیٹھے شخص نے مقتول ڈیوڈ ڈی سوزا کے سر میں گولی ماری تھی۔ اس سلسلے میں شیروا پولیس اسٹیشن میں قتل کا مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ پولیس نے پہلے 3 ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔ مزید تفتیش سے معلوم ہوا کہ نئے گرفتار ہونے والے دونوں ملزمان نے جرم کے لیے رقم کی منتقلی میں مدد کی اور ملزمان کی معاونت کی۔ پولیس نے کہا کہ کیس کی تمام پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے۔
خیال رہے کہ ڈیوڈ ڈی سوزا اپنے علاقے کی پنچایت کے سابق صدر اور پرنس انٹرپرائزز کے مالک تھے۔ انہیں 7 اگست کو مڈورنگاڈی میں اپنے دفتر کے باہر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ پولیس کو شبہ ہے کہ یہ قتل لاکھوں روپے کے تعمیراتی کام سے متعلق مالی تنازعے پر کیا گیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








