گل پلازہ آتشزدگی کی تحقیقات کے لیے قائم انکوائری کمیشن کی رپورٹ جاری کردی گئی، جس میں سانحے کو سسٹم کی اجتماعی ناکامی اور مختلف صوبائی و بلدیاتی حکومتوں کی مجموعی ناکامی قرار دیا گیا ہے۔
جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں کمیشن کی رپورٹ میں مصطفیٰ زیدی کا شعر بھی شامل کیا گیا:
“میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے”
رپورٹ کے مطابق گل پلازہ میں آتشزدگی کے نتیجے میں 72 سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ آگ لگنے کے وقت عمارت کے بیشتر راستے بند یا رکاوٹوں سے متاثر تھے، جبکہ 16 میں سے صرف 2 سے 4 راستے ہی قابل استعمال تھے۔
کمیشن نے بتایا کہ گل پلازہ میں فائر الارم، اسموک ڈیٹیکٹر، اسپرنکلر سسٹم، ہائیڈرینٹ، ہوز ریل اور فائر پمپ جیسے بنیادی حفاظتی انتظامات موجود نہیں تھے۔ فائر سیفٹی خامیوں کی نشاندہی کے باوجود انتظامیہ نے اصلاحی اقدامات نہیں کیے۔
رپورٹ میں آگ لگنے کی ممکنہ وجہ بچوں کا ماچس سے کھیلنا قرار دی گئی ہے۔ دکان نمبر 193 میں ماچس جلنے سے آگ شروع ہونے کا مؤقف سامنے آیا، تاہم فرانزک رپورٹ نہ ہونے کے باعث کمیشن نے حتمی وجہ کی تصدیق نہیں کی۔
کمیشن کے مطابق گل پلازہ میں پلاسٹک، ربڑ، میلامین، کپڑے اور دیگر آتش گیر سامان کی بڑی مقدار موجود تھی، جس نے آگ کو تیزی سے پھیلانے میں کردار ادا کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ پہلی مؤثر فائر ٹینڈر رات 10 بج کر 40 منٹ پر پہنچی، جبکہ آگ تقریباً 10 بجے لگی تھی۔ فائر بریگیڈ کا مقررہ رسپانس وقت 6 سے 7 منٹ تھا، مگر تاخیر کے باعث ریسکیو کے قیمتی مواقع ضائع ہوئے۔
انکوائری کمیشن نے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں پانی کی فراہمی مؤثر اور مسلسل نہ ہو سکی، بجلی بند ہونے سے عمارت میں اندھیرا چھا گیا جس سے ریسکیو آپریشن مزید مشکل ہوگیا۔ رضاکاروں نے گرِلیں توڑ کر لوگوں کو باہر نکالا، جبکہ خصوصی ریسکیو آلات اور سانس لینے کے آلات کی کمی بھی سامنے آئی۔
رپورٹ میں کے ایم سی فائر بریگیڈ کو آپریشنل ناکامیوں کا اہم ذمہ دار قرار دیا گیا۔ کمیشن کے مطابق فائر بریگیڈ وسائل ہونے کے باوجود بروقت اور مؤثر کارروائی نہ کرسکی۔
اس کے علاوہ سول ڈیفنس، ڈپٹی کمشنر ساؤتھ، ضلعی انتظامیہ اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کو بھی فائر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد میں ناکام قرار دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق گل پلازہ میں برقی حفاظتی معائنہ بھی کبھی نہیں کیا گیا۔ سانحہ صرف آگ کا نتیجہ نہیں بلکہ تاخیر، اندھیرے، بند راستوں اور ادارہ جاتی ناکامی کا مجموعہ تھا۔
کمیشن نے کہا کہ لوگ صرف آگ سے نہیں بلکہ ناقص انتظام، کمزور نظام اور غیر مؤثر ریسکیو کارروائیوں کے باعث جان سے گئے۔ رپورٹ کے مطابق گل پلازہ کے منظور شدہ پلان میں 1102 دکانیں تھیں، جبکہ حقیقت میں 1153 دکانیں قائم تھیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








