بلند و بالا پہاڑوں کی برفانی چوٹیوں اور دشوار گزار راستوں نے ایک اور جانثار کو ہمیشہ کے لیے اپنی آغوش میں چھپا لیا تھا تاہم ایک ماہ کی طویل اور صبر آزما بے یقینی کے بعد بالآخر سوات کے معروف مقامی کوہ پیما سید علی شاہ کی مبارک میت فلک سیر کی سرکش چوٹی سے تلاش کر لی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق معروف مقامی کوہ پیما سید علی شاہ ٹھیک اکتیس روز قبل سوات کی مشہور فلک سیر پہاڑی چوٹی کو سر کرنے کی مہم کے دوران اچانک لاپتہ ہو گئے تھے جن کا سراغ لگانے کے لیے طویل عرصے سے کوششیں جاری تھیں۔
ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے جب فلک سیر کی اس بلند ترین چوٹی پر ڈرون کے ذریعے سرچ آپریشن چلایا گیا تو تب جاکر سید علی شاہ کی میت کی اس دشوار گزار پہاڑی مقام پر موجودگی کا مصدقہ سراغ ملا۔
اس تلخ حقیقت کے ساتھ ساتھ ایک اور بڑا چیلنج یہ ہے کہ یہ مقام انتہائی بلند اور خطرناک نوعیت کا ہے جس کی وجہ سے اس برفانی اور کٹھن راستے سے میت کو نیچے منتقل کرنا انتہائی مشکل اور جان جوکھوں کا کام قرار دیا جا رہا ہے۔
اہل علاقہ اور مقامی افراد نے فوری طور پر حکومت سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ سید علی شاہ کی میت کو کسی سرکاری ہیلی کاپٹر کے ذریعے بحفاظت ریسکیو کیا جائے اور جلد از جلد ان کے آبائی علاقے تک منتقل کیا جائے۔
علاقے کے مکینوں اور سوگواران نے حکومت سے ایک بار پھر ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات اٹھانے کی پرخلوص اپیل کی ہے تاکہ اس بہادر کوہ پیما کے جسدِ خاکی کو باعزت طریقے سے نیچے لایا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








