میر رضا قتل کیس: مقتول کے بزنس پارٹنر کی ضمانت منظور

تازہ ترین

تازہ ترین

میر رضا
(فوٹو: آن لائن)

کراچی کی عدالت نے نوجوان تاجر میر رضا علی خان کی ہلاکت کے کیس میں ان کے بزنس پارٹنر محمد احمد کی عبوری ضمانت منظور کرلی۔ احمد نے گرفتاری کے خدشے کے پیشِ نظر عدالت سے رجوع کیا تھا۔ ان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس انہیں ہراساں کر رہی ہے، تاہم پراسیکیوشن نے کہا کہ انہیں صرف تفتیش کے لیے بلایا گیا اور اب تک 35 گواہوں سے پوچھ گچھ کی جاچکی ہے۔

تفصیلات کے مطابق عدالت نے محمد احمد کو ہدایت کی کہ ضمانت ہو یا نہ ہو، وہ تفتیش میں شامل رہیں گے اور تحقیقات مکمل ہونے تک شہر سے باہر نہیں جاسکتے۔ احمد نے کہا کہ پولیس جب بھی بلاتی ہے وہ تعاون کرتے ہیں۔

تفتیشی افسر نے بتایا کہ میر رضا کی زیرِ استعمال موبائل سم تفتیش میں اہمیت کی حامل ہے۔ پولیس ان کی والدہ کے بائیومیٹرک اور شناختی کارڈ کے ذریعے سم حاصل کرکے موبائل ڈیٹا اور رابطوں کا جائزہ لینا چاہتی ہے۔ عدالت نے پولیس کو میڈیکل اور تفتیشی رپورٹ سمیت مکمل پیش رفت رپورٹ 24 اگست کو پیش کرنے کا حکم دیا۔

وکیل جبران ناصر نے کہا کہ میر رضا کے رابطے میں آنے والے تمام افراد کی معلومات پولیس کو دے دی گئی ہیں اور ان سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ انہوں نے شفاف تحقیقات کی امید ظاہر کی۔

خیال رہے کہ میر رضا 28 جولائی کو پی ای سی ایچ ایس سے لاپتہ ہوئے تھے۔ دو روز بعد ان کی گولی لگی لاش گلستانِ جوہر کے ایک گیسٹ ہاؤس کے باہر سے ملی۔ قتل کے انکشاف سے ایک روز قبل ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی بند کردیئے گئے تھے۔ ان کے والد کے مطابق میر رضا کا 30 اگست کو نکاح طے تھا اور وہ نئی زندگی کے آغاز پر خوش تھے۔

Related Posts