پی سی بی آخر کن معلومات کو چھپانا چاہتا ہے؟ معاملہ عدالت پہنچ گیا

تازہ ترین

تازہ ترین

کرکٹ بورڈ
(فوٹو: آن لائن)

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے قومی کرکٹرز، سلیکشن کمیٹی کے ارکان اور دیگر بورڈ حکام سے متعلق مالی، معاہداتی اور انتظامی معلومات فراہم کرنے کے پاکستان انفارمیشن کمیشن (پی آئی سی) کے دو الگ الگ فیصلوں کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ ایڈووکیٹ کاشف علی ملک کے ذریعے دائر درخواستوں پر چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر سماعت کریں گے، جبکہ پی سی بی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بعض معلومات کا اجرا اس کے تجارتی اور قانونی مفادات کے خلاف ہوگا۔

پہلی درخواست میں 9 جولائی کو جاری کیے گئے اس حکم کو چیلنج کیا گیا ہے جس میں پی سی بی کو مالی سال 2023 سے 2025 تک کے بجٹ، مختلف اخراجات کی تفصیلات، مالی معلومات کی رازداری سے متعلق پالیسی، رواں برس ٹی20 ورلڈ کپ کے لیے سفر کرنے والے کھلاڑیوں اور حکام کی فہرست، آڈٹ کے طریقہ کار اور آڈٹ رپورٹس فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ ان معلومات میں حساس نوعیت کا ریکارڈ بھی شامل ہے۔

دوسری درخواست نومبر 2025 میں فیصل آباد کے اقبال اسٹیڈیم میں پاکستان اور جنوبی افریقا کے درمیان کھیلی گئی ون ڈے سیریز سے متعلق ہے۔ پاکستان انفارمیشن کمیشن نے پی سی بی کو اس سیریز سے حاصل ہونے والی آمدن، اخراجات اور پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سیزن 12 کی میزبانی کے لیے اقبال اسٹیڈیم کی اپ گریڈیشن پر کیے گئے یا مجوزہ اقدامات کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دیا تھا، اور اس حکم کو بھی پی سی بی  نے عدالت میں چیلنج کر دیا ہے۔

پی سی بی نے عدالت کو بتایا کہ کرکٹ بورڈ ایک مسابقتی بین الاقوامی کھیلوں کے ماحول میں کام کرتا ہے اور اسے وفاقی حکومت یا قومی خزانے سے مالی معاونت حاصل نہیں ہوتی۔ بورڈ کے مطابق پی سی بی کی آمدنی بنیادی طور پر نشریاتی حقوق، اسپانسرشپ، میڈیا رائٹس، ٹکٹوں کی فروخت، لائسنسنگ، بین الاقوامی مقابلوں اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) سے ملنے والی رقوم پر مشتمل ہے، اس لیے حساس معلومات کے افشا سے تجارتی نقصان کا خدشہ ہے۔

درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حقِ معلومات ایکٹ 2017 کی دفعہ 16 ذاتی رازداری، خفیہ معاہدوں، تجارتی نوعیت کی حساس معلومات اور تیسرے فریق کے مفادات کے تحفظ کی اجازت دیتی ہے۔ پی سی بی کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں اور حکام کی تنخواہوں، معاوضوں اور معاہدوں کی خفیہ تفصیلات منظر عام پر آنے سے مستقبل کے تجارتی معاہدے اور مذاکرات متاثر ہو سکتے ہیں، اسی لیے عدالت سے عبوری ریلیف بھی طلب کیا گیا ہے تاکہ ایسی معلومات کے اجرا کو روکا جا سکے۔

Related Posts