کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) کی مرکزی قیادت نے عوام پر نئے ٹیکس عائد کرنے کی صورت میں منی بجٹ کی منظوری کیلئے مبینہ طور پر حکومت کا ساتھ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق حکومت اور اتحادی جماعت ایم کیو ایم (پاکستان) میں منی بجٹ کی منظوری کیلئے مشاورت نہ ہوسکی۔اس حوالے سے متحدہ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر عوام پر کوئی نیا ٹیکس عائد کیا گیا تو حکومت کا ساتھ نہیں دیں گے۔
اپوزیشن کو قومی سلامتی پالیسی کا علم اخبارات سے ہوا، شیری رحمان
منی بجٹ سے قبل اپوزیشن کا حکومتی اتحادیوں سے رابطہ
ایم کیو ایم (پاکستان) رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ہم وڈیروں اور جاگیرداروں پر ٹیکس عائد کرنے کی حمایت کریں گے۔ متحدہ رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے منی بجٹ سے قبل ہم سے مشاورت نہیں کی جس پر ایم کیو ایم کو تحفظات ہیں۔
متحدہ رہنماؤں کے مطابق عوام مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری سے پہلے ہی پریشان ہیں۔ اگر حکومت نے عوام پر منی بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد کیا تو ایم کیو ایم (پاکستان) کے اراکین حکومت کا ساتھ نہیں دیں گے۔
خیال رہے کہ قومی اسمبلی میں حکومت کی جانب سے منی بجٹ کی رونمائی سے قبل ہی اپوزیشن نے حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے اتحادیوں سے رابطے شروع کر دیئے، جس کا مقصد منی بجٹ کی منظوری روکنا ہے۔
حکومت کی جانب سے منی بجٹ کے اعلان کے بعد گزشتہ روز ہی اپوزیشن نے پی ٹی آئی حکومت کے اتحادیوں سے رجوع کرنا شروع کر دیا تاہم ذرائع کا کہنا تھا کہ اتحادی جماعتوں نے ابھی تک اپوزیشن کو اپنی حمایت کی یقین دہانی نہیں کرائی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








