بھارت اور بنگلہ دیش کی سرحد پر واقع مغربی بنگال کا حکیم پور بارڈر اس وقت پورے ملک میں بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہ سرحدی مقام، جو دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم کراسنگ پوائنٹ ہے، اب صرف ایک چیک پوسٹ نہیں رہا بلکہ غیر قانونی آمد و رفت اور سیاسی کشمکش کی ایک بڑی علامت کے طور پر سامنے آیا ہے۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب مغربی بنگال میں سیاسی تبدیلیوں کے بعد مبینہ طور پر بنگلہ دیش سے آنے والے غیر قانونی افراد کی نقل و حرکت میں تیزی دیکھی گئی۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران اس سرحدی علاقے پر لوگوں کی آمد میں واضح اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں بنگلہ دیشی مرد، خواتین اور بچے طویل قطاروں میں کھڑے نظر آتے ہیں اور ان کے پاس موجود سامان اور چہروں پر پریشانی اور خوف کی کیفیت نمایاں ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں “ڈیٹیکٹ، ڈیلیٹ اور ڈی پورٹ” یعنی شناخت، ہٹانے اور ملک بدری کی کارروائیوں کو مزید سخت کر دیا گیا ہے، جس کے باعث بھارت میں غیر قانونی طور پر مقیم بنگلہ دیشی شہریوں کی بڑی تعداد واپس جانے کی کوشش کر رہی ہے۔ گزشتہ ایک دن میں تقریباً 1000 سے 1200 افراد اسی راستے سے واپس بنگلہ دیش پہنچائے گئے۔
بھارتی حکام کے مطابق ہر آنے والے شخص کی باقاعدہ بائیومیٹرک جانچ کی جاتی ہے، اس کے کاغذات اور ممکنہ مجرمانہ ریکارڈ کی بھی چھان بین ہوتی ہے، اور صرف مکمل تصدیق کے بعد ہی واپسی کا عمل مکمل کیا جاتا ہے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ کئی افراد برسوں سے غیر قانونی طور پر بھارت میں مقیم تھے اور مختلف چھوٹے بڑے کاموں سے وابستہ تھے، لیکن اب سخت کارروائی کے خوف سے خود ہی سرحد کا رخ کر رہے ہیں۔
مقامی سطح پر موجود لوگوں کے مطابق حکیم پور کے آس پاس اچانک بھیڑ میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور کئی خاندان کھلے آسمان تلے انتظار کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ کچھ افراد نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان کے پاس مکمل دستاویزات موجود نہیں، اسی لیے وہ ممکنہ گرفتاری کے خوف سے خود ہی واپس جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سیکیورٹی ادارے مسلسل نگرانی میں مصروف ہیں اور بغیر تصدیق کسی کو بھی سرحد عبور کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ گزشتہ چند دنوں میں 200 سے زائد ایسے افراد بھی سامنے آئے ہیں جو خود ہی چیک پوسٹ پر پہنچ کر واپسی کی درخواست کر رہے ہیں تاکہ قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔ یہ صورتحال پہلی بار گزشتہ برس نومبر 2025 میں اس وقت شدت اختیار کر گئی تھی جب انتخابی فہرستوں کی خصوصی جانچ پڑتال کی مہم شروع ہوئی۔
ہمسایہ ملک بھارت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس دوران اسی چیک پوسٹ سے بڑی تعداد میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو واپس بھیجا گیا تھا۔ اب مئی 2026 میں انتظامی اقدامات مزید سخت ہونے کے بعد یہ سلسلہ دوبارہ تیز ہو گیا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر نئے افراد سرحد پر پہنچ رہے ہیں جبکہ بھارتی اپوزیشن اور حکومتی اراکین پارلیمنٹ کے مابین اس معاملے پر بحث و تمحیص بھی جاری ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








