خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے: نامور شاعر بشیر بدر انتقال کر گئے

تازہ ترین

تازہ ترین

بشیر بدر
(فوٹو: آن لائن)

‘خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے’ سمیت درجنوں شاہکار غزلوں کے خالق اور اردو زبان کے نامور شاعر بشیر بدر آج بھوپال میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 91برس تھی۔

تفصیلات کے مطابق بشیر بدر طویل عرصے سے بیمار اور ڈیمنشیا جیسی سنگین بیماری کا شکار تھے۔ میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ وہ بھوپال میں واقع اپنی رہائش گاہ پر خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ 15فروری 1935 میں ایودھیا میں پیدا ہونے والے بشیر بدر کی غزل گوئی ان کی اور وہ غزل گوئی کی پہچان بن گئے تھے۔

بشیر بدر نے اردو شاعری میں سادہ مگر دل موہ لینے والے انداز سے پذیرائی حاصل کی۔ ان کے اشعار عوام الناس اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد میں یکساں طور پر مقبول ہیں۔ سال 1972 میں پاک بھارت شملہ معاہدے کے موقعے پر بشیر بدر کے اس شعر نے عوام کے دلوں میں گھر کرلیا تھا:

دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے

جب کبھی ہم دوست ہوجائیں تو شرمندہ نہ ہوں

اس کے علاوہ نوجوان نسل اور بوڑھے افراد میں بھی خاص طور پر یہ غزل بہت مشہور ہوئی اور بہت سے گلوکاروں نے اس غزل کو اپنی آواز میں گایا:

خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے

کہ اپنے سوا کچھ دکھائی نہ دے

ہنسو آج اتنا کہ اس شور میں

صدا سسکیوں کی سنائی نہ دے

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ نوجوان نسل اردو ادب اور غزل سے دور ہوتی جارہی ہے، تاہم سوشل میڈیا پر آج بھی بشیر بدر کی غزلوں اور شاعری کا چرچہ برقرار ہے جس نے ہر نسل کے اردو سمجھنے والے افراد کو متاثر کیا ہے:

سنوار نوک پلک ابرووں میں خم کر دے
گرے پڑے ہوئے لفظوں کو محترم کر دے

غرور اس پہ بہت سجتا ہے مگر کہہ دو
اسی میں اس کا بھلا ہے غرور کم کر دے

معروف شعرا اور ادیبوں کے مطابق بشیر بدر کی شاعری میں اردو زبان کی تکنیکی خوبیاں، روزمرہ اور محاورہ کا استعمال اس قدر برجستہ اور بر محل ہے کہ ان کی شاعری ہر عمر کے افراد میں یکساں طور پر مقبول ہوئی۔ ان کے انتقال سے پیدا ہونے والے خلا کو مدتوں تک پر نہیں کیاجاسکے گا۔

Related Posts