اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے ضلع خانیوال کی تحصیل میاں چنوں میں ہجوم کے ہاتھوں شہری کی ہلاکت کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ کسی فرد یا گروہ کی جانب سے قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش قطعاً گوارا نہیں کی جائے گی۔
سندھ کے متعدد گوٹھوں پر پی پی کے لوگوں نے قبضے کیے، خرم شیر زمان
ٹوئٹر پیغام میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہجوم کے تشدد کے واقعے پر ملزمان کو سختی سے کچلا جائے گا۔ میں نے آئی جی پنجاب سے میاں چنوں واقعے کے ذمہ داروں کی رپورٹ طلب کی ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے پرتشدد ہجوم کےہاتھوں ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فرائض کی بجا آوری میں ناکام رہنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔
کسی فرد/گروہ کیجانب سے قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش قطعاً گوارا نہیں کی جائے گی چنانچہ انبوہی تشدد (Mob lynchings) کو نہایت سختی سےکچلیں گے۔میں نےIG پنجاب سےمیاں چنوں واقعےکےذمہ داروں اور فرائض کی انجام دہی میں ناکام رہنےوالےپولیس اہلکاروں کیخلاف کارروائی کی تفصیلات طلب کی ہیں۔
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) February 13, 2022
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ کسی فرد یا گروہ کی جانب سے قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش قطعاً گوارا نہیں کی جائے گی۔
میاں چنوں میں بہیمانہ قتل
گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ضلع خانیوال کی ایک ویڈیو جاری کی گئی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ میاں چنوں کے گاؤں جنگل ڈیرہ میں نمازِ مغرب کے اعلانات کے بعد سیکڑوں افراد جمع ہوگئے۔
عموماً مسجد میں فوتگی یا مذہبی تقریبات کے اعلانات ہوتے ہیں تاہم نمازِ مغرب کے بعد ہونے والے اعلانات میں الزام عائد کیا گیا کہ ایک شخص نے قرآن کے اوراق پھاڑے اور انہیں نذرِ آتش کردیا ہے۔
اعلانات سننے والے سیکڑوں مقامی افراد نے جمع ہو کر ایک مبینہ ملزم کو پکڑا اور اسے درخت سے لٹکا دیا۔ متعدد افراد نے مبینہ الزام کی رپورٹ پولیس کو دینے کی بجائے ملزم کو اینٹیں مار مار کر قتل کردیا۔
ٹوئٹر پر وائرل ویڈیو میں ایک شخص کا کہنا تھا کہ پرتشدد ہجوم کے جمع ہو کر ملزم کو پکڑنے کی اطلاع ملنے پر پولیس گاؤں میں پہنچ گئی تھی اور ملزم کو گرفتار کر لیا تاہم ہجوم نے اسے ایس ایچ او سے چھین لیا۔

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








