لاہور ہائیکورٹ، حمزہ شہباز کی حلف برداری سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ

تازہ ترین

تازہ ترین

لاہور ہائیکورٹ، حمزہ شہباز کی حلف برداری سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ
لاہور ہائیکورٹ، حمزہ شہباز کی حلف برداری سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ

لاہور ہائیکورٹ نے نو منتخب وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی حلف برداری کے حکم پر عملدرآمد سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ آج مقدمے کی سماعت چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ امیر بھٹی نے کی۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس امیر بھٹی نے حمزہ شہباز کی حلف برداری سے متعلق درخواست پر فریقین کے دلائل کی سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ پنجاب میں وزارتِ اعلیٰ کی کرسی خالی ہے۔ صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے عدالتی احکامات کے باوجود وزیر اعلیٰ کی حلف کیلئے نمائندہ مقرر نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیں:

امپورٹڈ حکومت کو غیر ملکی سازش نے پاکستان پر مسلط کیا، ہم نے  سازش کو ناکام بنانا ہے، عمران خان

درخواست گزار حمزہ شہباز کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے مزید کہا کہ گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ پہلے ہی وزیر اعلیٰ سے حلف لینے سے انکاری ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نصر احمد کو وفاقی حکومت سے رابطے اور ہدایات حاصل کرکے 2 بجے پیشی کی ہدایت کردی تاہم 2 بجے کے بعد سماعت کے آغاز پر عدالت زبانی ہدایات لینے پر برہم نظر آئی۔

چیف جسٹس امیر بھٹی نے ریمارکس دئیے کہ گزشتہ 4 روز میں صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی یہ ادراک نہیں کرسکے کہ انہوں نے کرنا کیا ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ صدر حلف برداری کا معاملہ آئین و قانون کے مطابق دیکھ رہے ہیں۔ نہ تو حمزہ شہباز کی درخواست قابلِ سماعت ہے اور نہ ہی لاہور ہائیکورٹ اس معاملے میں مداخلت کا کوئی اختیار رکھتی ہے۔

ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ گزشتہ 24روز سے پنجاب کی حکومت بغیر وزیر اعلیٰ کے چل رہی ہے۔ اگر آئین کے مطابق کام ہورہا ہے تو بتائیے پنجاب میں ہو کیا رہا ہے؟ڈپٹی اسپیکر پریزائیڈنگ آفیسر تھے، گلی محلے کے آدمی نہیں تھے۔ کوشش ہے صدر کو مکمل احترام دیں تاہم محسوس ایسا ہوتا ہے کہ انہیں یہ بات پسند نہیں آرہی۔

بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔ محفوظ کیا گیا فیصلہ 27 اپریل کو صبح 10 بجے سنایا جائے گا۔ خیال رہے کہ نو منتخب وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز حلف برداری کی تقریب منعقد نہ ہونے اور صدرِ مملکت کی جانب سے نمائندہ مقرر نہ کیے جانے پر عدالت سے رجوع کرنےپر مجبور ہوئے تاہم گورنر پنجاب کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ کا استعفیٰ بھی غیر آئینی تھا۔ 

Related Posts