سندھ میں بارش، سیلاب سے نقصان کا ابتدائی تخمینہ 860ارب لگایا گیا ہے۔شرجیل میمن

تازہ ترین

تازہ ترین

کراچی: وزیرِ اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ سندھ میں بارش اور سیلاب سے مالی نقصانات کا ابتدائی تخمینہ 860 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ 15 لاکھ مکانات متاثر ہوئے جس کی لاگت 450 ارب ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق سندھ میں بارش اور سیلاب سے تباہ کاریوں کے متعلق اپنے بیان میں شرجیل انعام میمن نے کہا کہ رواں سال غیر معمولی بارشیں ہوئیں جس سے 30 اضلاع متاثر ہوئے۔ جولائی میں 308 فیصد جبکہ رواں ماہ 784 فیصد سے زائد بارشیں ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیں:

آئی ایم ایف سے معاہدے میں رکاوٹ، سیلاب کے وقت ایسی حرکت غداری ہے۔بلاول

بیان میں صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اس وقت گڈو اور سکھر سے 5 لاکھ 50 ہزار کیوسک سے زائد کا سیلابی ریلا گزر رہا ہے۔ کچے کے تمام علاقے زیرِ آب آگئے اور ہزاروں خاندان بے گھر ہو گئے ہیں۔بارشوں اور سیلاب سے 402 افراد جاں بحق ہوئے۔

وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ سندھ میں بارشوں اور سیلاب کے دوران 1ہزار 55 افراد زخمی بھی ہوئے۔ نقصانات کا ابتدائی تخمینہ 860 ارب لگایا گیا ہے۔ 15 لاکھ گھر متاثر ہوئے جس پر لاگت کا تخمینہ 450 ارب ہے۔ 1 لاکھ 17 ہزار 34 مویشی ہلاک ہو گئے۔

 شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ میں بارشوں سے 31 لاکھ 71 ہزار 726ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں جس میں کپاس کی 14 لاکھ 67 ہزار 579 ایکڑ اراضی پر کھڑی 100 فیصد فصل بھی شامل ہے۔ کھجور کی 1 لاکھ 1 ہزار 379 ایکڑ پر 100 فیصد فصل متاثر ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ کھجور کی جو فصل متاثر ہوئی، اس سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ 7 ارب 9 کروڑ 65 لاکھ سے زائد لگایا گیا ہے۔ گنے کی 1 لاکھ 58 ہزار 916 ایکڑ پر کھڑی 21 اعشاریہ 78 فیصد فصل تباہ ہوئی جس کا تخمینہ 11 ارب 91 کروڑ 87 لاکھ روپے لگایا گیا۔

بارشوں سے چاول کی 10 لاکھ 63 ہزار 273 ایکڑ پر کھڑی 71اعشاریہ 46 فیصد فصل تباہ ہوگئی۔ شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ ٹماٹر، مرچ، پیاز اور دیگر فصلوں کو بھی نقصان پہنچا جس سے کاشتکاروں کا اربوں کا نقصان ہوا ہے۔ 2 ہزار 281 اعشاریہ 5 کلومیٹر طویل 570 سڑکیں بھی متاثر ہوئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حیدر آباد ڈویژن میں 843 اعشاریہ 5 کلومیٹر طویل 101 سڑکیں اور 20 پل بھی بارش سے متاثر ہوئے۔ سکھر ڈویژن میں 1 ہزار 2 کلومیٹر طویل 256 سڑکیں اور 18 پل تباہ ہوچکے ہیں۔ بے نظیر آباد میں 136 اعشاریہ 8 کلومیٹر طویل 125 سڑکوں کو نقصان پہنچا ہے۔

لاڑکانہ ڈویژن میں 96 کلومیٹر کی 12 سڑکوں اور 6 پلوں کو نقصان پہنچا۔ وزیرِ اطلاعات سندھ نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ سیّد مراد علی شاہ امدادی کاموں کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔ کراچی میں سڑکوں، پلوں اور نکاسئ آب کے نظام سمیت انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔ امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

 

Related Posts