خاتون جج کو دھمکانے کا کیس، عمران خان آج 12 بجے عدالت میں طلب

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو: آن لائن)

اسلام آباد: انسدادِ دہشت گردی عدالت نے خاتون جج کو دھمکانے کے کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو آج دن 12 بجے طلب کر لیا ہے۔بابر اعوان نے عدالت کو آگاہ کیا کہ عمران خان کی جان کو خطرہ ہے، اس لیے آج پیش نہیں ہوئے۔

تفصیلات کے مطابق عمران خان کو آج انسدادِ دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں مقدمے کی سماعت کیلئے پیش ہونا تھا، تاہم ان کے وکیل بابر اعوان کا کہنا تھا کہ عمران خان آنے کی خواہش رکھتے ہیں، تاہم پولیس نے آگاہ کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم کی جان کو خطرہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

اشرافیہ کے نزدیک عمران خان جیسے عوامی لیڈر غیر اہم ہیں۔فواد چوہدری

معزز جج انسدادِ دہشت گردی عدالت راجہ جواد عباس نے استفسار کیا کہ عمران خان کو ضمانت دی گئی، ان کا فرض تھا کہ عدالت میں پیش ہوجاتے، ان کی جان کو کون سا خطرہ لاحق ہے؟ عدالت نے استغاثہ سے بھی مختلف سوالات کیے جبکہ مقدمے میں نئی دفعات کا ذکر بھی آیا۔

عدالت نے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ کیا دفعہ 7 اے ٹی اے کو کبھی جرم کے بغیر بھی درج کیا گیا؟ بتانا ہوگا کہ ملزم نے کون سی کلاشنکوف لی اور خودکش حملے سے قبل کون سی جیکٹ پہنی؟ وکیل بابر اعوان نے عدالت سے 12 بجے تک کا وقت دینے کی استدعا کی۔

بابر اعوان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو 12 بجے تک پیش کردیتے ہیں۔ اگر میرے مؤکل کو کچھ ہوا تو ذمہ داری آئی جی اور ڈی آئی جی (آپریشنز) پر عائد ہوگی۔ سابق وزیر اعظم کے خلاف مقدمے میں 4 دفعات مزید شامل کر لی گئی ہیں جو 504، 506، 186 اور 188 ہیں۔

وکیل بابر اعوان نے عدالت سے درخواست کی کہ عمران خان کی ضمانت منظور کی جائے۔ انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ریمارکس دئیے کہ مذکورہ دفعات میں نوٹس جاری کیا جائے گا۔ بعد ازاں جج راجہ جواد عباس نے مقدمے کی سماعت کو 12 بجے تک ملتوی کردیا۔ 

Related Posts