پی ٹی آئی رہنما و سابق وفاقی وزیر بابر اعوان نے آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے حوالے سے کہا ہے کہ چیف آف آرمی اسٹاف کی تقرری پر آئینی نہیں بلکہ قانونی ترمیم ہوگی تاکہ معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کیا جاسکے۔
لاہور میں میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف رہنما بابر اعوان نے کہا کہ آرمی چیف کی طرح چیئرمین سینیٹ اور بڑے بڑے عوامی عہدوں پر فائز دیگر افراد کی تعیناتی بھی اسی طرح تحریر کی جاتی ہے۔
تحریک انصاف رہنما بابر اعوان نے کہا کہ قانون میں یہ تو لکھا ہے کہ چیئرمین سینیٹ کو تعینات کیا جائے، لیکن ان کی کوئی مراعات طے نہیں کی گئی، یہی آرمی چیف کا معاملہ ہے۔
بابر اعوان نے کہا کہ سپریم کورٹ عبوری حکم کے مطابق آرمی ایکٹ میں ترامیم کی جائیں گی، جبکہ حکم کے مطابق اراکینِ پارلیمنٹ بھی قانون سازی کے عمل میں شریک ہوں گے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی بابر اعوان ایسا ہی قانونی نکتہ بیان کرچکے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان سے تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان نے بنی گالہ میں ملاقات کی جس میں الیکشن کمیشن میں زیر سماعت پارٹی فنڈنگ کیس پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر 22 نومبر کو گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں معاشی عدم استحکام کی کوششیں ناکام ہو رہی ہیں، ملکی خزانہ لوٹنے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔
وزیر اعظم نے کہاکہ رول آف لا پر سمجھوتہ ہوگا اور نہ کرپٹ مافیا کو رعایت ملے گی۔ملاقات کے بعد بابر اعوان نے اپنے بیان میں کہا کہ تحریک انصاف پر فارن فنڈنگ نہیں، ممنوعہ فنڈنگ کا جھوٹا الزام ہے۔
مزید پڑھیں: عمران خان سے بابر اعوان کی ملاقات ، پارٹی فنڈنگ کیس پر تبادلہ خیال
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








