کیا ٹریول ایجنسیوں کا زائرین سے پیسے لیکر کاروبار میں لگانا جائز ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

سوال: بعض عمرہ ٹور والے سال دوسال قبل پورے پیسے لے کر(جو بروقت جانے سے تقریباً آدھا ہوتا ہے) بکنگ کرتے ہیں اور اس پیسے کو ٹکٹ، ویزا اور دوسری چیزوں میں انویسٹ کرتے ہیں اور اس سے حاصل کردہ منافع سے عمرہ کراتے ہیں.

دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا ان ٹریول ایجنسیوں کا ایسا کرنا صحیح ہے یا نہیں؟

جواب: واضح رہے کہ ٹریول ایجنٹ عمرہ زائرین سے ٹکٹ سمیت مختلف خدمات (سروسز) فراہم کرنے پر جو رقم ‏لیتے ہیں، اس کی شرعی حیثیت اجرت کی ہے اور باقاعدہ طے کرکے اجرت پیشگی (ایڈوانس) لینا شرعاً جائز ہے۔
چونکہ یہ رقم ٹریول ایجنسی کی ملکیت بن جاتی ہے، اس لیے ایجنسی والے جس طرح چاہیں اس رقم کا جائز استعمال ‏کرسکتے ہیں۔

نیز ان کا اس رقم کو کاروبار میں لگا کر اس کے منافع سے لوگوں کے عمرہ کے اخراجات ادا کرنا شرعاً جائز ہے، ‏البتہ معاہدہ میں طے شدہ سہولیات مکمل اور صحیح طریقہ سے زائرین کو فراہم کرنا ان کی ذمہ داری ہے، لہٰذا اس میں ‏کسی قسم کی کمی اور کوتاہی نہ کی جائے۔ و اللہ اعلم۔ ‏

Related Posts