اسلام آباد: سینیٹر فیصل جاوید قومی اسمبلی میں بچوں سے زیادتی اور قتل پر سرِ عام پھانسی دینے کی قرارداد کی مذمت کرنے پر وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کے خلاف کھڑے ہوگئے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر گزشتہ روز وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کی مذمت پر ردِ عمل دیتے ہوئے سینیٹر فیصل جاوید نے سوال کیا کہ جن بچوں سے زیادتی ہوتی ہے، ان کی عزتِ نفس کا کیا ہوگا؟
فواد چوہدری کو جواب دیتے ہوئے سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ ایک بچہ جنسی زیادتی کے اندوہناک عمل سے گزرتا ہے، کیا یہ ظالمانہ فعل نہیں؟ کیا اسے بربریت کانام نہیں دیاجاسکتا؟
اپنے ٹوئٹر پیغام میں سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ انسانی حقوق صرف انسانوں کے لیے ہوتے ہیں جبکہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے انسانوں کے زمرے میں نہیں آتے۔ وہ انسان ہوتے ہی نہیں ہیں۔
سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ یہ جانور ظلم کی شدید شکل کو اختیار کرتے ہوئے بربریت کا مظاہرہ کرتے ہیں، اس لیے وہ شدید سزا کے مستحق ہیں۔
What about dignity of a child? What does a child go through? Isn't that brutal? Isn't that barbarism? Human Rights are for Humans only. Child abusers are not humans. These animals commit extreme cruelty & brutality hence they deserve extreme punishment #Deterrence #Insaniat https://t.co/vOnEf7XlZm
— Faisal Javed Khan (@FaisalJavedKhan) February 9, 2020
یاد رہے کہ اس سے قبل وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے سرعام سزائے موت دینے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ سر عام پھانسی اسلامی تعلیمات اور آئین کے منافی ہے۔
وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے دو روز قبل اپنے بیان میں کہا کہ 1994ء میں سپریم کورٹ سرعام پھانسی کی سزا کو غیر آئینی قرار دے چکی ہے۔عدالت کہہ چکی ہے کہ سرعام پھانسی آئین کیساتھ شریعت کی بھی خلاف ورزی ہے۔
مزید پڑھیں: وفاقی وزیر قانون کی سرعام پھانسی دینے کی مخالفت
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








