اسپین نے غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے ہزاروں تارکین وطن کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے 48 ہزار 300 سے زائد افراد کو مراکش واپس بھیج دیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی سیوتا (Ceuta) کی سرحد پر بڑے پیمانے پر ہونے والی غیر قانونی نقل مکانی کے بعد کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق مراکش سے اسپین کے زیر انتظام علاقے سیوتا میں بڑی تعداد میں تارکین وطن داخل ہونے کی کوشش کی گئی، جس کے بعد اسپین نے فوری کارروائی کرتے ہوئے انہیں واپس بھیجنا شروع کر دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں افراد رضاکارانہ طور پر بھی مراکش واپس چلے گئے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق حالیہ سرحدی بحران کے دوران ہزاروں افراد نے سیوتا میں داخل ہونے کی کوشش کی، جبکہ سرحد عبور کرنے کی کوشش کے دوران کئی افراد ہلاک بھی ہوئے۔ دوسری جانب سیکیورٹی خدشات کے باعث بعض یورپی ممالک نے سرحدی نگرانی سخت کر دی ہے۔
اسپین نے سیوتا اور مراکش کے درمیان سمندری سرحد پر تقریباً 500 میٹر طویل رکاوٹی باڑ بھی نصب کر دی ہے تاکہ مستقبل میں غیر قانونی آمد کو روکا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق سیوتا کا واقعہ یورپ میں تارکین وطن کی پالیسی، سرحدی سیکیورٹی اور اسپین و مراکش کے تعلقات کے حوالے سے ایک نئی بحث کا باعث بن گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








