پاکستان میں آبادی میں مسلسل اضافے، وسائل کی غیر مساوی تقسیم اور انتظامی مسائل کے باعث نئے صوبوں کے قیام کی ضرورت پر ایک بار پھر بحث زور پکڑ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کا موجودہ انتظامی ڈھانچہ کئی دہائیوں پرانا ہے، جبکہ آبادی اور ضروریات میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے، جس کے باعث عوام تک بنیادی سہولیات کی مؤثر فراہمی ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2023 تک پاکستان کی آبادی 24 کروڑ 10 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ ملک میں اب بھی صرف چار صوبے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آبادی میں کئی گنا اضافے کے باوجود انتظامی تقسیم میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی گئی، جس سے گورننس، ترقیاتی منصوبوں اور وسائل کی منصفانہ تقسیم پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ چھ برسوں میں پاکستان کی آبادی میں تقریباً ساڑھے تین کروڑ افراد کا اضافہ ہوا، جبکہ نوجوانوں کی بڑی تعداد روزگار، تعلیم اور علاج کی بہتر سہولیات کی تلاش میں دیہی علاقوں سے بڑے شہروں کا رخ کر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ رجحان شہروں پر دباؤ بڑھانے کے ساتھ دیہی علاقوں کو مزید پسماندہ بنا رہا ہے۔
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ پنجاب ملک کی تقریباً 59 فیصد آبادی پر مشتمل ہے، جسے ایک ہی انتظامی اکائی کے طور پر چلایا جا رہا ہے، جبکہ بلوچستان پاکستان کے تقریباً 48 فیصد رقبے پر محیط ہونے کے باوجود بنیادی سہولیات اور انفراسٹرکچر کے حوالے سے شدید مسائل کا شکار ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بلوچستان کے کئی علاقوں میں ایک ڈاکٹر اوسطاً 10 ہزار سے زائد افراد کے لیے دستیاب ہے، جبکہ صاف پانی، صحت، تعلیم اور بنیادی انفراسٹرکچر کی کمی بدستور ایک بڑا مسئلہ ہے۔ دوسری جانب دیہی علاقوں میں معیاری تعلیمی سہولیات کی عدم دستیابی بھی ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دی گئی ہے۔
تجزیے میں وسائل کی تقسیم پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سندھ قومی معیشت میں نمایاں حصہ ڈالنے کے باوجود وسائل کی تقسیم کے حوالے سے تحفظات رکھتا ہے، جبکہ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود کئی علاقے آج بھی گیس اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر انتظامی اکائیوں کی تعداد بڑھا کر چھ یا آٹھ صوبے کر دیے جائیں تو مقامی حکومتوں کی استعداد بہتر ہو سکتی ہے، عوام تک سرکاری خدمات کی رسائی میں اضافہ ہوگا اور وسائل کی تقسیم بھی نسبتاً مؤثر انداز میں ممکن بنائی جا سکے گی۔
تاہم نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ آئینی اور سیاسی نوعیت کا ہے، جس پر مختلف سیاسی جماعتوں اور آئینی ماہرین کی آراء مختلف ہیں۔ اس لیے اس موضوع پر کسی بھی فیصلے کے لیے وسیع قومی اتفاقِ رائے اور آئینی طریقہ کار ضروری ہوگا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








