کراچی میں بلدیہ شرقی کی لیبر یونینز نے میونسپل کمشنر سے 30 اقسام کی آسامیوں پر بھرتی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بلدیہ شرقی کی لیبر یونینز نے 30 قسموں کی آسامیوں پر بھرتی کے ساتھ ساتھ ایک ملازم کی ڈی ایم سی ایسٹ میں بیک وقت 2 ملازمتوں اور ایک آفیسر کی ترقی کو بھی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے فوری طور پر اسے واپس لینے کیلئے میونسپل کمشنر بلدیہ شرقی کو خط لکھ دیا۔
بلدیہ شرقی کی یونینز متحدہ ورکرز فرنٹ اور پیپلز لیبر یونین دونوں نے علیحدہ علیحدہ خطوط میں مؤقف اپنایا کہ ایک 11 گریڈ کے ملازم کو غیر قانونی طور پر 16 گریڈ میں اپ گریڈ کیا گیا۔گریڈ 16 کے لیے دیگر سینئر ملازمین جو سینیارٹی لسٹ کے مطابق ترقی کے منتظر تھے انہیں نظر اندازکیا گیا۔من پسند ملازم کواپ گریڈ کرنا غیر قانونی ہے۔
دوسری طرف یونینز نے غیر قانونی بھرتیوں کی بھی نشاندہی کی جس کے لیے اخبار میں اشتہار بھی دیا گیا ، جبکہ ضلعی ڈومیسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے مقامی ادارے کے ملازمین کا حق سلب کر کے غیر مقامی افراد کو غیر قانونی طور پر جوائننگ دی گئی ہے ۔
خط میں ایک ملازم محمد عامر عزیز کا ذکر کیا گیا۔یہ ملازم گزشتہ 5 سال سے بلدیہ شرقی میں بیک وقت 2 مقامات پر کنٹریکٹ ملازم کی حیثیت سے کام کر رہا ہے اور اسے بھی غیر قانونی طور پر ملازمت دی گئی کیونکہ سندھ حکومت کی جانب سے بھرتیوں پر مکمل پابندی کے باوجود جعلسازی سے ملازمت دی گئی۔
محمد عامر عزیز کو براہِ راست گریڈ 11 میں جمشید ٹاؤن کے محکمہ آئی ٹی میں بھرتی کیا گیا تھا ،بعد ازاں اسے بھی غیر قانونی طور پر گریڈ 16 سے نواز دیا گیا ۔غیر قانونی بھرتیوں میں ملوث ڈائریکٹر آئی ٹی کی کرپشن واضح ہو چکی ہے، خط میں کہا گیا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ مندرجہ بالا غیر قانونی اقدامات چیئر مین ، ایم سی ایسٹ کو دھوکہ دیکر یا گمراہ کر کے انجام دیے گئے۔
خط میں امید ظاہر کی گئی کہ تمام غیر قانونی اقدامات کا چیئر مین اور میونسپل کمشنر فوری نوٹس لے کر تمام غیر قانونی امور کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائیں گے۔اس حوالے سے موقف جاننے کے لیے چیئر مین ایسٹ معید انور اور میونسپل کمشنر ایسٹ وسیم مصطفیٰ سومرو سے فون پر رابطے کی کوشش کی گئی تو دونوں ذمہ داران نے فون نہیں اٹھایا۔تاہم جب بھی مؤقف دستیاب ہوگا ،ضرور شائع کیا جائے گا۔