پاکستانی معاشرہ مردوں کے مقابلے خواتین کیلئے بالکل مختلف ہے ،سلمان صوفی

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان میں صنفی مساوات کے داعی سلمان صوفی ایوارڈ یافتہ عوامی پالیسی اور ترقی کے ماہر ہیں۔انہوں نے درجنوں تاریخی اصلاحات متعارف کروائیں اور صنفی مساوات کا بھرپور دفاع کیا۔ انہوں نے پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی قائم کی اور اسکول کے نصاب میں خواتین کے حقوق متعارف کروائے۔

سلمان صوفی نے خواتین پرتشدد کے خلاف وائلنس اگینسٹ ویمن سینٹرقائم کیا جو خدمت کی ایک اعلیٰ مثال ہے ،سلمان صوفی کے اقدامات نے ناصرف قومی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی بھرپور توجہ حاصل کی،انہوں نے پاکستان میں لڑکیوں کو موٹرسائیکل چلانے کا موقع فراہم کرنے کے ساتھ ویمن آن وہیل تحریک کا آغاز کیا۔

خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے خدمات کے اعتراف میں سلمان صوفی کو 2018 ء میں مدر ٹریسا ایوارڈ سے نوازا گیا، ایم ایم نیوز نے صنفی اصلاحات ،کامیابیوں اور ترقی پسندانہ اقدامات کے بارے میں سلمان صوفی سے خصوصی گفتگو کی جس کا احوال نذر قارئین ہے۔

ایم ایم نیوز: آپ صنفی مساوات کیلئے ہمیشہ متحرک رہتے ہیں، آخرکس چیز نے آپ کو خواتین کے حقوق کیلئے آواز اٹھانے کی ترغیب دی؟

سلمان صوفی : میں نے خواتین میں نقل و حرکت کافقدان دیکھا،میں ہمیشہ اپنے گھر کی خواتین کیلئے جدوجہد میں سست رہا ہوں لیکن یہ جان بوجھ کر نہیں ہے، میرے لئے خواتین کیلئے صرف ہمدردی کافی نہیں تھی اس لئے میں نے حقیقی تبدیلی لانے کی اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ اہم منصوبوں پر کام کرنا شروع کیا۔

ایم ایم نیوز:پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کے قیام کیلئے کس چیز نے آپ کو ابھارا اور گھریلو تشدد کے واقعات کو کم کرنے میں یہ اتھارٹی کس حد تک کامیاب رہی؟

سلمان صوفی : میں اور میری ٹیم نے پی ڈبلیو پی اے کے قیام کا آغاز کیا جس کی وجہ سے ہم ملتان میں خواتین پرتشدد کے خلاف پاکستان کا پہلا مرکز بنانے میں کامیاب ہوئے، یہ مرکز پنجاب میں سیکڑوں خواتین کی پناہ گاہ کا کام کرتا ہے۔ ہمارا پہلا VAWC ملتان میں فعال ہے اور دوسرا سندھ میں جلد ہی کھول دیا جائے گا۔ہمارا مقصد گھریلو زیادتیوں اور دیگر مسائل سے دوچار خواتین کو قانونی خدمات کی فراہمی، رہائش اور علاج کی سہولت مہیا کرنا ہے۔

ایم ایم نیوز:کیا آپ کو لگتا ہے کہ پاکستانی خواتین کو صنفی امتیاز کا سامنا ہے اور ہم صنف کے بارے میں اپنے رویوں اور عقائد کو کیسے تبدیل کرسکتے ہیں؟

سلمان صوفی : مردوں کے مقابلہ میں خواتین کے لئے پاکستانی معاشرہ بالکل مختلف ہے ،خواتین کو سیاست ہو یا کوئی بھی شعبہ ہر جگہ زیادہ رکاوٹوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔خواتین کے ساتھ صنفی امتیاز کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے تعلیم اور آگاہی کے ذریعے غلط فہمیوں کو دور کیا جاسکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہر منصوبے کے ساتھ ہم خاص طور پر خواتین کو مرکزی دھارے میں لانے کیلئے توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔

ایم ایم نیوز:آپ کو سندھ میں صنفی اصلاحات کے مشیر کی حیثیت سے خدمات کا موقع ملا، یہ تجربہ کیسا رہا ہے؟

سلمان صوفی : وزیراعلیٰ کا دفتر ہو یا محکمہ ترقی نسواں حکومت ہمیشہ ہماری مدد کرتی ہے ۔ بلاول بھٹو اور شیری رحمان بھی ہمارے پروجیکٹس کے بارے میں حوصلہ افزائی اورلوگوں میں بیداری پیدا کرتے ہیں۔ ویمن آن وہیل سے لے کر سیف باتھ پروجیکٹ ،وائلنس اگینسٹ ویمن سینٹر تک حکومت سندھ ہر چیز میں تبدیلی اور بہتری کی خواہاں ہے اور اس کیلئے کام کرنے کے لئے تیار ہے جو حوصلہ افزا ہے اورمیرا سندھ حکومت کے ساتھ تجربہ اب تک بہت اچھا رہا۔

ایم ایم نیوز:پاکستان میں خواتین کیلئے موٹرسائیکل چلانا غیر معمولی سمجھا ہے، آپ نے ویمن آن وہیل کا آغاز کیا، کیا اس نے معاشرے کی سوچ بدلنے میں کوئی مدد کی؟

سلمان صوفی : بہت ساری خواتین میرے پاس اپنے تجربات بانٹنے کے لئے آتی ہیں کہ تربیت کے بعد وہ گھر کے معاملات میں کس طرح حصہ ڈالتی ہیں ۔ ہم ان لوگوں کی زندگی بہتر بناتے ہیں جن سے وہ پیار کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ہماری ایک ٹرینی اپنے شوہر کو موٹرسائیکل پر اسپتال لے جانے میں کامیاب ہوگئی جبکہ وہ تشویشناک تھا۔ جب اہل خانہ دیکھتے ہیں کہ ان کی بیٹیاں خودمختار اور معاش کاذریعہ بن رہی ہیں تو وہ ان کی مدد کرنے کے لئے بھی زیادہ راضی ہوجاتی ہیں۔ صبر اور استقامت کے ساتھ بہت کچھ بدلا جاسکتا ہے!۔

ایم ایم نیوز:آپ کو خواتین کے حقوق کاداعی سمجھاجاتا ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ مرد حقوق نسواں کے علمبردار ہو سکتے ہیں؟

سلمان صوفی : جو بھی مساوات ، انصاف اور معاشرتی بہبود پر یقین رکھتا ہے وہ حقوق نسواں کاعلمبردار ہے۔

ایم ایم نیوز:آپ کے خیال میں اب تک آپ کا سب سے بڑا کارنامہ کون سا رہا ہے؟

سلمان صوفی : جب بھی میں سڑک پر کسی لڑکی کو موٹرسائیکل چلاتے ہوئے دیکھتا ہوں تو اس سے مجھے بہت خوشی ہوتی ہے اور یہی چیز مجھے چلتے رہنے کی ترغیب بھی دیتی ہے۔ فخر کا ایک اور لمحہ وہ تھا جب پنجاب میں خواتین پرتشدد کے خلاف ایکٹ منظور ہوا ،آئینی حمایت کے ساتھ زمینی سطح پر تبدیلی زیادہ قابل حصول ہوجاتی ہے۔

ایم ایم نیوز:آپ اس وقت کس منصوبے پرکام کر رہے ہیں؟

سلمان صوفی : ہم اس وقت سیف باتھ جیسے بہت سے نئے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں جو عید کے بعد شروع کئے جائینگے۔ سیف باتھ کے تحت ہم پاکستان میں جدید ترین عوامی بیت الخلاء تشکیل دے رہے ہیں تاکہ کورونا وائرس کے دوران لوگوں کو خاص طور پر خواتین کو محفوظ حفظان صحت تک رسائی فراہم ہو۔ اسی طرح ہم قیمتوں میں اضافے اور ذخیرہ اندوزی سے بچنے کے لئے سپلائی کرنے والوں سے براہ راست رابطہ کرکے اس بات کو یقینی بنانے پر توجہ دے رہے ہیں کہ مریضوں کو آکسیجن سلنڈر تک رسائی حاصل ہو۔ ہم سیف کیمپس کے اقدام پر بھی توجہ مرکوز کریں گے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ یونیورسٹی اور اسکول انتظامیہ بہتر احتساب اور ایس او پیز کے ساتھ کیمپس میں ہونے والی جنسی ہراسانی کو زیادہ سنجیدگی سے لیں۔

ایم ایم نیوز:پاکستان میں کس قسم کا معاشرہ تشکیل دینا چاہیں گے؟

سلمان صوفی : ایک ہمدرد معاشرہ جہاں ہرکوئی اپنے استحقاق سے لطف اندوز ہوتا ہے ،جہاں ہر انسان ان لوگوں کی مدد کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے جو ابھی لوگ نہیں کرتے ہیں ،اگر ہم نے خود اپنی تقدیر کو نہیں بدلا تو کوئی اوربھی نہیں بدلے گا۔

ایم ایم نیوز:صنفی مساوات پر یقین نہ رکھنے اور خواتین کے حقوق غصب کرنیوالوں کو کیا پیغام دینگے؟

سلمان صوفی : ہمارا پیغام عالمگیر اور سمجھنے میں آسان ہے،مرد اور خواتین برابر ہیں،وہ لوگ جو خواتین کو کمتر سمجھتے ہیں اور ان کے حقوق نہیں دیتے ان لوگوں کی سوچ تبدیل کرنے کیلئے ہم اپنی پوری کوشش کرتے رہیں گے کیونکہ پاکستان کی خواتین بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔

Related Posts