متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) کے سابق مرکزی رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ کراچی کی مردم شماری میں دھاندلی کی گئی جبکہ میں آج کے سپریم کورٹ فیصلے سے مطمئن نہیں ہوں۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں مردم شماری پر ایم کیو ایم کیس کی سماعت کے بعد میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر سیاسی رہنما فاروق ستار نے کہا کہ عدالتِ عظمیٰ میں مردم شماری سے متعلق ہماری سماعت ہوئی، میں دلائل سننے کے بعد عدالتی فیصلے پر عدم اطمینان کا اظہار کرتا ہوں۔
گفتگو کے دوران سینئر رہنما فاروق ستار نے کہا کہ سپریم کورٹ نے نئی درخواست دائر کرنے کی ہدایت کی ہے، ہمارا مؤقف یہ ہے کہ سندھ کی شہری آبادی کو کم دِکھایا جاتا ہے۔ ہم نے اعدادوشمار کے ساتھ شواہد عدالت کے سامنے رکھے ہیں۔ ہم نے مردم شماری میں تمام نقائص کی نشاندہی کی۔
کراچی کی مردم شماری پر تنقید کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ بڑی متنازعہ، دھاندلی زدہ اور جھرلو مردم شماری ہوئی، ہمیشہ کراچی کی آبادی کم دکھائی گئی، بلاک کاؤنٹس میں پہلی بار شہری آبادی کا تناسب زیادہ ظاہر ہونے والا تھا۔ انتخابی دھاندلی مردم شماری سے شروع ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی، حیدر آباد اور سندھ کے دیگر شہروں میں مردم شماری از سرِ نو ہونی چاہئے۔رواں برس بارشوں کے دوران کراچی ڈوبنے کی بڑی وجہ بھی جھرلو زدہ مردم شماری تھی۔ کراچی کا مسئلہ اگر مستقل طور پر حل کرنا ہے تو شفاف مردم شماری کی جائے اور متعصبانہ سلوک بند کیا جائے۔
یاد رہے کہ اِس سے قبل سپریم کورٹ نے متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) کے مردم شماری کیس پر ایم کیو ایم رہنماؤں کو نئی درخواست دائر کرنے کا حکم دے دیا۔
سپریم کورٹ میں مردم شماری سے متعلق ایم کیو ایم کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ وکیل صلاح الدین نے عدالت کو آگاہ کیا کہ رجسٹرار آفس نے ایم کیو ایم کی درخواست پر اعتراض کیا تھا۔ وکیل نے کہا کہ مردم شماری اعدادوشمار سے متعلق درخواست میں ترمیم کردی ہے۔
مزید پڑھیں: مردم شماری کیس، سپریم کورٹ کا نئی درخواست دائر کرنے کا حکم
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








