اسلام آباد:اسلام آباد میں ڈنڈوت سیمنٹ فیکٹری کے مزدوں نے مسلسل تیسرے روز بھی اپنے حقوق کیلئے احتجاج جاری رکھا،مزدوروں کے ساتھ اظہاریکجہتی کیلئے وفاقی ترقیاتی ادارہ مزدور یونین کے جنرل سیکرٹری چوہدری محمدیاسین نے شرکت کی اور کہاکہ موجودہ حکومت مزدوروں کو روزگار دینے کے بجائے بے روزگارکررہی ہے۔
اس سے قبل پی ٹی ڈی سی کے 470ملازمین کو فارغ کر دیا تھا، پی ٹی سی ایل کے ملازموں کو نوکری سے فارغ کیا گیا اور اب ڈونڈوت سیمنٹ فیکٹری کے ایک ہزار خاندانوں کو بے روزگار کردیاگیاہے، ان ملازموں کو بغیر کسی نوٹس کے واجبات ادا کئے بغیر نوکریوں سے نکالنا سراسر ظلم وزیادتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ اس وقت ملک میں روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی میں بے روزگاری کی شرح میں بھی اضافہ ہورہاہے جو کہ قابل تشویش ہے، میں وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ مزدوروں کے حقوق انہیں دیئے جائیں۔
مزدوروں کے بچے مختلف اسکولوں،کالجوں اوریونیورسٹیوں میں پڑھ رہے تھے اب بے روزگار ہونے کی وجہ سے ان کاتعلیمی سال ضائع ہوچکا ہے اور گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ چکے ہیں،بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طاہر بزنجو بھی بلوچستان سے ڈنڈوت سیمنٹ فیکٹری کے مزدوروں کے ساتھ اظہاریکجہتی کرنے کیلئے کوئٹہ سے اسلام آباد مظاہرے میں پہنچے۔
سینیٹر طاہر بزنجو کا کہنا تھا کہ جب سے یہ حکومت آئی ہے تب سے کسی بھی محکمہ میں کوئی بہتری نہیں آئی، ہر طرف بے چینی،بے روزگاری اور بدامنی پھیلی ہوئی ہے، میں یہاں ان مزدوروں کی آواز میں آواز ملانے آیا ہوں، میں بحیثیت سینیٹر سینیٹ میں ان مزدوروں کے حقوق کی آواز اٹھاؤں گااوربحیثیت انسانی حقوق بھی ان کی ہر طر ح مدد ومعاونت کروں گا۔
انہوں نے کہاکہ میں مزدوروں کو یقین دلاتا ہوں کہ جب تک ان کے مطالبات کا حل نہیں نکلتا میں ان کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر اس مظاہرے میں شریک رہوں گا،انہوں نے کہاکہ حکومت کو چاہئے کہ ان مزدوروں کو ان کا حق دلانے میں اپنا کردار ادا کرے کیونکہ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے۔
وزیراعظم نے کروڑوں نوکریاں دینے کاوعدہ کیا تھا لیکن دو سال میں لاکھوں مزدور بے روزگار ہو چکے ہیں، انہوں نے کہاکہ ان تمام مسائل کی ذمہ دار حکومت ہے، حکومت ہوش کے ناخن لے اور تمام مسائل کا جلد سے جلد حل نکالے۔