اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر مرکزی رہنما اور سابق وزیرِ داخلہ احسن اقبال پر نارووال اسپورٹس سٹی کمپلیکس ریفرنس میں فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت اسلام آباد میں سابق وزیرِ داخلہ احسن اقبال کے خلاف نارووال اسپورٹس سٹی کمپلیکس ریفرنس پر سماعت ہوئی اور ملزم احسن اقبال کو عدالت کے روبرو پیش کیا گیا۔
عدالت نے نارووال اسپورٹس سٹی کیس میں احسن اقبال پر فردِ جرم عائد کی جو انہیں پڑھ کر سنائی گئی۔ مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما احسن اقبال نے صحتِ جرم سے انکار کردیا جس پر عدالت نے آئندہ سماعت کیلئے گواہوں کو طلب کر لیا۔
ریفرنس کے خلاف میڈیا نمائندگان سے سماعت سے قبل گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ایسے کیسز کا مقصد حزبِ اختلاف رہنماؤں کی کردار کشی کے سوا کچھ اور نہیں، چیف جسٹس عدالتی کارروائی کیمرے پر دکھانے کا حکم دیں۔
سابق وزیرِ داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ لوگوں کو پتہ چلنا چاہئے کہ یہ لوگ کیا کرتے ہیں، کیسز حل ہونے چاہئیں تاہم عدالتی نظام جھوٹے کیسز کا بوجھ اٹھانے پر مجبور ہے جبکہ نارووال منصوبہ 11 سال قبل شروع ہوا۔
نارووال اسپورٹس سٹی کمپلیکس منصوبے پر روشنی ڈالتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ن لیگ کی حکومت نے 11 ہزار میگا واٹ بجلی کے منصوبے لگانے کے ساتھ ساتھ 2000 کلو میٹر طویل سڑکیں بنائیں۔ ہر پسماندہ شہر میں ایسا منصوبہ ہونا چاہئے۔
وزیرِ اعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ یہ شخص غریبوں کے گھر گرا کر اپنے محل بچانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اسلام آباد میں بنی گالہ کی غیر قانونی تعمیر کو ریگولرائز کیا گیا جبکہ سیکڑوں غریبوں کے مکان گرائے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ اِس سے قبل قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم حرکت میں آگئی، ن لیگی رہنما اور سابق وزیرِ داخلہ احسن اقبال کے خلاف بد عنوانی کے الزامات پر مبنی ریفرنس دائر کردیا گیا۔
احتساب عدالت میں نیب نے 4 روز قبل ریفرنس دائر کردیا جس میں کہا گیا کہ نارووال اسپورٹس سٹی کمپلیکس کے منصوبے میں سابق وزیرِ داخلہ نے اپنے اختیارات کو ناجائز طریقے سے استعمال کیا۔
مزید پڑھیں: نیب نے احسن اقبال کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائرکردیا
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








