ایس او پیز پر عمل کیا جائے تو تعلیمی ادارے بند کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔سعید غنی

تازہ ترین

تازہ ترین

بچوں کی پروفائل اور حاضری کے عمل کو ڈیجیٹلائز کیا جائے، سعید غنی
بچوں کی پروفائل اور حاضری کے عمل کو ڈیجیٹلائز کیا جائے، سعید غنی

کراچی: وزیرِ تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے ایس او پیز پر عمل درآمد ہو رہا ہو تو ملک بھر کے تعلیمی ادارے بند کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیرِ تعلیم کی زیرِ صدارت آج صوبائی وزرائے تعلیم اجلاس کے تناظر میں وزیرِ تعلیم سندھ سعید غنی نےکہا کہ اِس حوالے سے فی الحال کچھ کہنا مشکل ہے کہ اسکول کب سے کھولے جاسکیں گے۔

صوبائی وزیرِ تعلیم سعید غنی نے کہا کہ بین الصوبائی وزرائے تعلیم اجلاس میں 25 جنوری سے پرائمری اسکولز کھولنے کی تجویز پر تبادلۂ خیال متوقع ہے جبکہ سیکنڈری اسکولز کو فروری کے پہلے ہفتے میں کھولنے کی تجویز زیرِ غور ہوگی۔

وزیرِ تعلیم سندھ نے کہا کہ بڑی کلاسز کھولنے کے حوالے سے فیصلہ 19 جنوری کے بین الصوبائی وزرائے تعلیم اجلاس میں متوقع ہے۔ بنیادی تجویز یہی ہے کہ اسکولز اور تعلیمی ادارے 3 مراحل میں کھولے جائیں۔

سعید غنی نے کہا کہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) اور محکمۂ صحت کی طرف سے فراہم کردہ ڈیٹا دیکھنے کے بعد یہ بین الصوبائی وزارتِ تعلیم اجلاس میں ادارے کھولنے یا نہ کھولنے پر فیصلہ ممکن ہوسکے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں رہنما ہدایات (ایس او پیز) پر عمل درآمد ممکن بنا لیا جائے تو لاک ڈاؤن کی کوئی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اگر فیصلہ یہ ہو کہ لاک ڈاؤن کیا جائے گا تو وہ پورے ملک پر لاگو ہونا چاہئے۔ 

یاد رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے پیش نظر وفاق نے فروری تک تعلیمی ادارے نہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ پرائیویٹ اسکولز کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا گیا ہے جس میں تعلیمی ادارے کھولنے کے حوالے سے فیصلہ متوقع ہے۔

وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود کی زیرِ صدارت صوبائی وزرائے تعلیم کا اجلاس آج ہوگا ،صوبائی وزرائے تعلیم کی یہ کانفرنس ویڈیو لنک کے ذریعے ہوگی۔ بین الصوبائی وزرائے تعلیم کے اجلاس میں اسکولوں کی بندش یا کھولنے کے حوالے سے اہم فیصلہ متوقع ہے۔

مزید پڑھیں: حکومت کا تعلیمی ادارے فروری تک نہ کھولنے کا فیصلہ،اعلان آج متوقع

Related Posts