مولانا فضل الرحمن وفاق المدارس کی صدارت کے لیے مضبوط امیدوار

تازہ ترین

تازہ ترین

مولانا فضل الرحمن وفاق المدارس کی صدارت کے لیے مضبوط امیدوار
مولانا فضل الرحمن وفاق المدارس کی صدارت کے لیے مضبوط امیدوار

اسلام آباد: جمعیت علمائے (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن جوان دنوں حکومت مخالف اتحاد پی ڈی ایم اتحاد کی سربراہی بھی کررہے ہیں،وفاق المدارس کی صدارت کے لیے مضبوط امید وار ہیں۔

واضح رہے کہ وفاق المدارس دیوبندی مدارس کا انتظامی بورڈ ہے جو نصاب‘ داخلہ‘ امتحان اور سندجیسے معاملات کا ذمہ دار ہے۔ پھر ہر مسلک کا اپنا مدرسہ بورڈ ہے۔ جماعت اسلامی نے جومدارس قائم کیے‘ان کا الگ بورڈ ہے۔ان کی اسناد کو سرکاری طور پر بھی تسلیم کیاجا تا ہے۔

دوسری جانب دیکھا جائے تو ہر مسلک کے لوگوں نے اپنی سیاسی جماعتیں بھی بنا رکھی ہیں، تاہم اس بات کی شعوری کوشش کی جا تی ہے کہ مدارس کو سیاست سے الگ رکھا جائے۔ اس میں ایک حکمت ہے۔ الگ تنظیمی وجود کی وجہ سے مدارس سیاست کے اثرات سے محفوظ رہتے ہیں۔

ایک جانب یہ باتیں بھی چل رہی ہیں کہ وفاق المدارس کی سربراہی مولانا تقی عثمانی یا مولانا زاہد الراشدی جیسی کسی علمی شخصیت کے پاس ہو۔کیونکہ مولانا فضل الرحمن ایک سیاسی رہنما ہیں۔ ان سے اختلاف رکھنے والے بہت سے دیوبندی وفاق سے وابستہ ہیں۔

کیونکہ وفاق کامولانا کی سیاست سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔جیسے دارالعلوم حقانیہ‘اکوڑہ خٹک۔قاری حنیف جالندھری صاحب ایک متحرک شخصیت ہیں اور بطور ناظمِ اعلیٰ وفاق کے مفادات کا بخوبی تحفظ کر رہے ہیں۔

دوسری جانب مولانا فضل الرحمن کی وفاق المدارس کا صدر بننے کی کوشش کیخلاف علمائے کرام میدان بھی میں آ گئے۔علمائے کرام کی جانب سے سیاسی شخصیت کو وفاق المدارس العربیہ کا صدر بنانے پر اظہار تشویش کیا گیا ہے۔

وفاق المدارس العربیہ کو جمعیت علماء اسلام پاکستان کے رہنماؤں اور علمائے کرام کی جانب سے خط لکھا گیا ہے۔علمائے کرام کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ سیاست سے پاک وفاق المدارس نے تعلیمی ادارے کی حیثیت کا تحفظ کیا ہے۔

وفاق المدارس کو خیال رکھنا چاہیے کہ سیاسی شخصیت کو وفاق المدارس کا عہدے دار بنانے پر انتشار نہ پھیلے۔سیاسی شخصیت کو مولانا سمیع الحق شہید کی مثال دیکھنی چاہیے۔

مولانا سمیع الحق نے ہمیشہ سیاسی امور سے خود کو الگ رکھا۔خط میں مزید کہا گیا کہ وفاق المدارس العربیہ سے گزارش ہے ادارے کو سیاست سے دور رکھیں۔وفاق المدارس کے دستور میں ترامیم سے سیاسی شخصیت کو دور رکھا جائے۔

وفاق المدارس کو سیاسی شخصیت کے زیر تسلط کا مطلب شوریٰ پر عدم اعتماد ہوگا۔ وفاق المدارس العربیہ کو مولانا احمد لدھیانوی،مولانا شیرانی اور مفتی رویس خان کی جانب سے خط لکھا گیا۔ خط بھیجنے والوں میں مولانا حامد الحق، مولانا عبدالقادر، مولانا اجمل قادری شامل ہیں۔ مولانا طیب طاہری، طاہراشرفی، تحریک خدام اہلسنت خط بھیجنے والوں میں شامل ہیں۔

Related Posts