کراچی:شہر قائد میں فوڈ اسٹریٹ کے باعث برنس روڑ بند کرنے کے خلاف علاقہ مکین نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی۔
دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ جائیں لاہور، دیکھیں ہر جگہ فوڈ اسٹریٹس ہیں۔ بیچارے غریب لوگ کھانا کھاتے ہیں، کیا ہم بند کرا دیں؟
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شام 6 بجے کے بعد موٹر سائیکل تک گھر نہیں لے جا سکتے۔ یہاں 8، 10 ہوٹل ہیں لیکن 50 ہزار مکینوں کو سزا دی جارہی ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ 50 ہزار افراد کو فائدہ 50 کو نقصان تو عدالت 50 ہزار کے حق میں فیصلہ کرے گی۔ اگر اہل محلہ کو شکایت ہے تو سب حلف نامے دیں۔کہ واقعی انہیں فوڈ اسٹریٹ سے مسئلہ ہے۔
اس موقع پر جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ کراچی پہنچانا ہی بزنس روڑ سے جاتا ہے۔ کراچی والے پہلے ہی ذہنی تنہاؤ کا شکار ہیں اور اگر کراچی والے بچوں کے ساتھ کھانا کھا لیتے ہیں تو کیا ہوگیا؟
معزز عدالت نے اس موقع پر درخواست گزار سے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل طلب کرلیے۔