اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ شہباز شریف ڈیڑھ سال سے جیل میں ہیں، وزیراعظم اور وزیروں پربھی نیب کیسز بناکرجیل میں ڈالا جائے۔
احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ملک کا احتساب کا نظام آپ کے سامنے ہے، دارالحکومت میں دو دن پہلے سینئر صحافی ابصار عالم کو پارک میں گولی ماری گئی، آج تک کسی کو پتہ نہیں ہے کہ وہ لوگ کون تھے؟ ،صحافت کو دبانا صرف اب دھمکیوں کی بات نہیں بلکہ صحافیوں کو جانی خطرہ بھی ہے۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جس طرح معیشت، خارجہ پالیسی زوال پذیر ہے، صحافت بھی دھمکیوں، دباؤ اور جانی خطرے کے تحت ہے، ہم کل قومی اسمبلی میں یہ معاملہ اٹھائیں گے، جو اسپیکر پارلیمان میں ناموس رسالت کی بات نہ کرنے دے وہ صحافت کی آزادی پر بھی بات نہیں کرنے دے گا،میں صرف ایک ذات سے معافی مانگتا ہوں، اسپیکر یا کسی اور سے نہیں۔
انہوں نے کہا کہ 23کروڑ کی آبادی کا ملک خیرات کی ویکسین اپنے عوام کو لگا رہا ہے، حکومت آج تک ویکسین کا ایک ٹیکہ خرید نہیں سکی، این سی او سی کو بند کریں، دنیا کا واحد ملک ہے جہاں عوام اپنے پیسے سے ویکسی نیشن کرانے پر مجبور ہیں، دنیا کورونا پر قابو پا رہی ہے اور ہمارے ہاں کورونا کیسز بڑھ رہے ہیں۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ وہ وقت دور نہیں کہ پاکستانیوں کو بیرون ملک سفر سے منع ہی کر دیا جائے، پاکستان کی چالیس فیصد چینی پیدا کرنے والوں کو نیب بلائیں، شناختی کارڈ لے کر چینی حاصل کرنے کے لیے لائنوں میں کھڑے ہیں،شہباز شریف ڈیڑھ سال سے جیل میں ہیں، وزیراعظم اور وزیروں پر بھی نیب کیسز بناکر جیل میں ڈالا جائے۔