اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کے انکشافات کے بعد حکومت پر برہم، معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کا عزم، عدلیہ سے معاملے کا ازخود نوٹس لینے کی اپیل کردی۔
مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں کبھی وزیراعظم آفس کے اندرایسے گھناؤنے جرائم کاارتکاب نہیں ہوا، اداروں کےسربراہوں کو بلا کر کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف،مریم نواز کیخلاف یہ مقدمہ کرو، اداروں کے سربراہوں کو کہا جارہا ہے کہ رانا ثناء اللہ کے خلاف مقدمہ کرو،سیاسی انجینئرنگ کے لیے ادارے استعمال کیےجارہے ہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ جسٹس شوکت عزیز کی گواہی آن یرکارڈ ہے، اب بشیر میمن کی گواہی آگئی ہے،اتنی سیاسی انجینئرنگ کے باوجود نتیجہ کیا رہا، ہرمحاذ پر حکمرانوں کو ناکامی ہوئی، انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کےآفس میں سپریم کورٹ کےموجودہ جج کےخلاف سازش کی گئی،عدلیہ سے درخواست ہے کہ اس معاملے کو خود دیکھیں۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں کو سمجھ آگئی ہے کہ سسلین مافیاز کیاہوتےہیں،کہاجاتا ہے ابھی تم گرفتار کرلو،مقدمہ کیابناناہے وہ بعد میں دیکھیں گے، 2014میں دھرنےشروع ہوئے تب سےجانتے ہیں کیاسازش ہورہی ہے،آج جو کچھ ہورہا ہے وہ بھی اسی سازش کی کڑی ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سازش کی گئی،مسلم لیگ ن اس معاملےکو نہیں جانے دے گی۔
مریم نواز نے کہا کہ عمران خان نے وزیراعظم آفس کا غلط استعمال کیا،جسٹس قاضی فائزعیسیٰ پر جھوٹا ریفرنس بنانے پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔