اسلام آباد: عثمان مرزا تشدد کیس ، سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں تشدد کا نشانہ بننے والے متاثرہ لڑکے اور لڑکی نے شادی کرلی ہے، دوسری طرف پولیس نے متاثرہ لڑکے اور لڑکی کا بیان قلمبند کرلیا ہے۔
وفاقی پولیس نے وائرل ویڈیو میں عثمان مرزا اور اس کے ساتھیوں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنانے لڑکے اور لڑکی کے بیانات 161 کے تحت راولپنڈی میں ریکارڈ کر لیے ہیں۔ پولیس نے دونوں متاثرین کے بیانات کو تفتیش کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ متاثرین مکمل تحفظ اور قانونی امداد کی یقین دہانی پر بیانات کےلیے راضی ہوئے۔
پولیس کے مطابق واقعے میں ملوث مرکزی ملزم سمیت چار ملزمان گرفتار ہیں جبکہ مزید افراد کی گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں۔
یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے متاثرہ لڑکے اور لڑکی کی ویڈیو وائرل ہونے پر نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد قاضی جمیل الرحمان سے واقعے کی مکمل رپورٹ طلب کی تھی۔ وزیراعظم نے آئی جی اسلام آباد کو احکامات دیتے ہوئے کہا تھا کہ واقعے میں ملوث تمام افراد کو عبرت کی مثال بنا دیا جائے۔
آئی جی اسلام آباد قاضی جمیل الرحمان نے آج وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرکے اسلام آباد گیسٹ ہاؤس واقعے سے متعلق رپورٹ پیش کردی ہے۔
آئی جی اسلام آباد کے حکم پر وفاقی پولیس نے واقعے میں ملوث تمام ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔ جب آج پولیس نے عدالت سے ملزمان کا مزید 4 روز کا جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کرلیا ہے۔
دوسری طرف وزیراعظم عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وزیراعظم کے لیے یہ کیس ایک ٹیسٹ کیس ہے۔