اسلام آباد:عورت آزادی مارچ کے عہدیداروں کا نور مقدم قتل کے خلاف مظاہرہ

تازہ ترین

تازہ ترین

اسلام آباد:عورت آزادی مارچ کی عہدیداروں کا نور مقدم قتل کے خلاف مظاہرہ
اسلام آباد:عورت آزادی مارچ کی عہدیداروں کا نور مقدم قتل کے خلاف مظاہرہ

اسلام آباد:شہر اقتدار میں عورت آزادی مارچ کی عہدیداروں کی جانب سے نور مقدم قتل کے خلاف مظاہرہ کیا گیا۔

مظاہرے میں شریک مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارے ملک میں گزشتہ 10 روز میں تین خواتین کو قتل کیا گیا، بشریٰ۔ صائمہ اور مقدم کو قتل کیا گیا ہم حکومت کو ذمہ دار ٹھہرائیں گے۔جاگیردارانہ نظام ہمارے وجود کے خلاف ہے۔

عصمت نورجہاں کا کہنا تھا کہ نور مقدم کے مجرم کو بیمار ظاہر کیا جا رہا ہے کیا ایسے تھانے اور کلینک ہونے چاہیے جس میں مجرم کو بیمار ظاہر کیا جائے؟کیا ایسی عدالت ہونی چاہیے جہاں پر جج بک جائیں؟ ریپ سے بڑا کوئی عمل ہوسکتا ہے؟

جب سے یہ ریاست بنی ہے کبھی بھی ریاست عورت کے ساتھ کھڑی نہیں ہوئی،اس ملک میں جب تک پدر شاہی قائم رہے گی ہماری جدوجہد جاری رہے گی،اب تک جتنی بھی عورتیں قتل ہوئی ہیں ان کو ان کے والد اور شوہروں نے قتل کیا ہے۔

اس سیاسی نظام سے ہمیں کوئی امید نہیں عورتوں کے حوالے سے خواتین پر گھریلو تشدد کا بل پاس کیا جائے، ظالموں جواب دو خون کا حساب دو نور مقدم کو انصاف دو میرا جسم میری مرضی کے نعرے پر تو ریٹنگ کے لئے شو کرتے ہیں لیکن خواتین کے لیے پروگرام کیوں نہیں کرتے۔

مزید پڑھیں:راولپنڈی میں ماں سے جنسی زیادتی، 14 ماہ کا بچہ قتل، ماں بھی دم توڑ گئی

خواتین پر تشدد کا بل فوری طور پر قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے اوربل کو پاس کیا جائے، ہم لوگ وفاق میں ہی محفوظ نہیں باقی شہروں کا کیا کہیں ہم حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ نور مقدم کے قاتل کو قانون کے مطابق سزا دی جائے اور اس سے کسی قسم کی کوئی رعایت نہ برتی جائے۔

Related Posts