امریکا کے صوبہ میساچوسٹس میں لنڈسے کلینسی کے قتل کے مقدمے کی سماعت جاری ہے۔ حکام کے مطابق ملزمہ وہ ماں ہے جس نے صرف ایک اجنبی آواز کے کہنے پر اپنے 5 سے 8ماہ تک کے 3معصوم بچے قتل کردئیے اور خود کو بھی ختم کرنے کی کوشش کی تاہم ملزمہ کی خودکشی کی کوشش ناکام رہی۔
تفصیلات کے مطابق 36 سالہ کلینسی پر الزام ہے کہ اس نے جنوری 2023 میں اپنے تین بچوں کو اپنے ہاتھوں سے قتل کردیا جن کی عمریں 5، 3 اور 8 ماہ تھیں۔ یہ مقدمہ ذہنی بیماری اور ذمہ داری کے سوال پر سوشل میڈیا پر بحث کا مرکز بن گیا ہے۔
استغاثہ کا کہنا ہے کہ کلینسی نے جان بوجھ کر اپنے شوہر کو کام پر بھیجا اور پھر گھر کے تہہ خانے میں اپنے بچوں کو قتل کر دیا۔ دفاعی وکلاء اس بات سے انکار نہیں کرتے کہ ماں نے بچوں کو قتل کیا، تاہم وہ کہتے ہیں کہ کلینسی پوسٹ پارٹم سائیکوسس اور ادویات کی وجہ سے شدید ذہنی خرابی کا شکار تھی۔
کلینسی خود ہی اس رات دوسری منزل سے چھلانگ لگانے کے بعد کمر سے نیچے مفلوج ہو چکی ہیں۔ خاتون کا دعویٰ ہے کہ ایک آواز نے انہیں بچوں اور خود کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔
عدالت میں پولیس افسران نے گواہی دی کہ کلینسی کے شوہر پیٹرک نے تہہ خانے میں بچوں کو پانے کے بعد مدد کے لیے چیخیں مارنا شروع کر دیں۔ پیٹرک نے مقدمے میں اپنی سابقہ بیوی کی بگڑتی ذہنی حالت کے بارے میں گواہی دی اور ان کی جذباتی 911 کال کی ریکارڈنگ بھی جیوری کے سامنے چلائی گئی۔
اس انوکھے جرم پر سوشل میڈیا صارفین دو دھڑوں میں بٹ گئے، جن میں سے ایک دھڑے کا ماننا ہے کہ یہ منصوبہ بند جرم ہے اور کلینسی کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے اور ایک کالم نگار نے بھی لکھا کہ بچوں کو قتل کرنے والے کے لیے معافی نہیں ہونی چاہیے۔ دوسری طرف کچھ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ کلینسی شدید ذہنی بیماری کا شکار تھیں اور انہیں سزا کے بجائے علاج کی ضرورت ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








