کراچی: بین الاقوامی جریدے فارن پالیسی نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ چیئرمین پی ٹی آئی و سابق وزیر اعظم عمران خان سے خائف ہے کیونکہ انہوں نے سوشل میڈیا اور لائیو اسٹریمز کا استعمال کیا۔
تفصیلات کے مطابق عالمی جریدے میں سیاست پر ایک مضمون میں دعویٰ کیا گیا کہ عمران خان نے ایسے ایسے اوزار استعمال کرکے اسٹیبلشمنٹ کو ڈرانے کی کوشش کی جو فوجیوں کی سمجھ سے بالاتر ہیں جبکہ ماضی میں عمران خان فوج کی پشت پناہی کرنے والے سمجھے جاتے تھے۔
مختلف شہروں میں عمران خان پر حملے کے خلاف پی ٹی آئی کا احتجاج
مذکورہ مضمون میں عالمی جریدے نے دعویٰ کیا کہ عمران خان فوج کے سرکردہ نقاد بن کر ابھرے جبکہ اسٹیبلشمنٹ اکثر ملک پر براہِ راست حکومت کرتی آئی ہے، اور برائے نام سویلین کنٹرول کے وقت بھی اسٹیبلشمنٹ کی ملک پر طاقتور گرفت رہی۔عمران خان کے نئے روئیے نے انہیں مختلف بنا دیا۔
مضمون میں دعویٰ کیا گیا کہ عمران خان فوجی حکمرانی کے خلاف سراپا احتجاج رہے ہیں، ان کی تقاریر کی لائیو اسٹریم اس قدر مقبول ہوئی کہ حکومت کو مشکوک بہانے کرکے ان پر پابندی لگانے کی کوشش کرنی پڑی۔ تاہم عمران خان پر گولی کس نے چلائی، یہ فی الحال واضح نہیں۔
عالمی جریدے کا کہنا ہے کہ عمران خان کے حامی چیئرمین پی ٹی آئی پر فائرنگ کے واقعے کو ہراساں کرنے کی طویل مہم کے تازہ ترین اقدام کے طور پر دیکھتے ہیں جب سے عمران خان وزارتِ عظمیٰ سے محروم ہوئے جبکہ اس سازش کا الزام عمران خان نے حکومت پر عائد کیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








