اسلام آباد: چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے مختلف شہروں میں عمران خان پر قاتلانہ حملے کے خلاف تحریکِ انصاف کے کارکنان اور سپورٹرز کا احتجاج جاری ہے۔
تفصیلات کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو جمعرات کے روز قاتلانہ حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں سابق وزیر اعظم عمران خان زخمی ہو گئے۔ پی ٹی آئی کارکنان نے واقعے کے خلاف کراچی، لاہور اور اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں احتجاج کیا۔آج بھی احتجاج کی کال دی گئی ہے۔
عمران خان پر فائرنگ کا واقعہ سیاست کیلئے استعمال کرنا خطرناک ہوگا۔فضل الرحمان
راولپنڈی میں فیض آباد کے مقام پر پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان آمنے سامنے آگئے۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔ لاہور میں گورنر ہاؤس کے سامنے مظاہرین نے ٹائروں کو آگ لگا دی۔ فیروز پور روڈ پر احتجاج کے باعث میٹرو بس سروس بھی معطل رہی۔
دوسری جانب وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ عمران خان فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات نہیں کرا رہے، صرف الزام لگا رہے ہیں۔ انہیں ڈر ہے کہ اگر شفاف تحقیقات ہوئیں تو جھوٹی کہانی کہاں جائے گی؟ قانون عمران خان کی خواہش پر نہیں بلکہ حقائق پر چلے گا۔
قبل ازیں عمران خان نے حملے کے متعلق پہلے سے علم ہونے کا اعتراف کیا تھا۔ گزشتہ روز اپنے بیان میں مریم اورنگزیب نے سوال کیا کہ اگر عمران خان کو معلوم تھا کہ حملہ ہونا ہے تو لوگوں کی جانوں کو خطرے میں کیوں ڈالا؟ان کا مقصد الیکشن نہیں بلکہ ملک میں انتشار پھیلانا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








